حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 267 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 267

حیات احمد ۲۶۷ جلد چهارم حضرت اقدس کے ہمراہ اس سفر میں منشی غلام محمد خوشنویس امرتسری (جس کا خط حضرت کو پسند تھا اور وہ حضرت کی کرم فرمائیوں اور قدردانیوں پر ناز کیا کرتا تھا) بھی ساتھ تھا۔اس لئے کہ وہاں بھی ان عربی رسائل کی تالیف کا کام جاری تھا۔یہ سفر ۴ اردسمبر ۱۸۹۳ء کو ختم ہوا۔اور اسی تاریخ آپ قادیان واپس تشریف لائے۔خاکسار عرفانی کو یہ سعادت اللہ تعالیٰ کے فضل سے حاصل ہوئی کہ فیروز پور چھاؤنی بارہا جانے اور کئی کئی دن قیام کا موقعہ حاصل رہا اور واپسی میں حضرت ہی کے ارشاد پر لا ہور تک ساتھ رہنے کی عزت نصیب ہوئی۔اسی سفر میں پنڈت لیکھر ام صاحب کے سلام کرنے کا واقعہ لا ہور اسٹیشن پر پیش آیا۔حضرت حکیم الامت کی قادیان میں ہجرت اور جموں سے علیحدگی حضرت حکیم الامت کی قادیان میں ہجرت ۱۸۹۳ء کی آخری سہ ماہی میں ہوئی جہاں تک میرا علم بعض خطوط کی بنا پر رہنمائی کرتا ہے مجھے اس مقام پر جموں سے علیحدگی کے واقعات کی تفصیل نہیں دینا ہے۔وہ اللہ تعالیٰ نے چاہا تو کسی دوسرے موقعہ پر بیان کروں گا۔مگر اتنا میں ضرور کہہ دینا چاہتا ہوں کہ حضرت حکیم الامت اور مولوی محرم علی چشتی مرحوم پر ایک سیاسی الزام آپ کے دشمنوں نے لگایا تھا۔راجہ امر سنگھ صاحب کو (جو موجودہ صدر ریاست جموں کشمیر کے دادا تھے ) حضرت حکیم الامت سے بہت محبت تھی۔اور وہ آپ کی عملی زندگی اور صداقت پسندی کا عاشق تھا۔اور وہ ایک مدبر اور صاحب الرائے نوجوان تھا وہ سیاسی جماعت جو مہا راجہ پرتاب سنگھ کی حالت سے واقف اور اُن پر قابو یافتہ تھی انہیں یہ شبہ تھا کہ کسی بھی وقت مہاراجہ پرتاب سنگھ کو معزول کر دیا جائے گا۔اور اس کی جگہ مہاراجہ امر سنگھ ہو جائیں گے یہ دراصل سیاسی اور اقتداری جنگ تھی اور اس کو مذہب کا رنگ دیا گیا کہ حضرت مولوی صاحب راجہ امرسنگھ کو جب وہ مہاراجہ