حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 256 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 256

حیات احمد ۲۵۶ جلد چهارم کوئی شخص ہم میں سے اس مقابلہ سے منہ پھیرے یا بیجا حجتوں اور حیلوں سے اس طریق آزمائش کو ٹال دیوے تو اس پر خدا تعالیٰ کی دس لعنتیں ہوں۔مگر افسوس کہ بٹالوی صاحب نے ان لعنتوں کی کچھ بھی پروا نہیں کی اور کئی عہد اور وعدے تو ڑ کر آخر حیلہ جوئی کے طور پر یہ جواب دیا کہ اوّل ہم آپ کی عربی تالیفوں کو آزمائش کی نظر سے دیکھیں گے کہ وہ سہو اور نسیان سے مبرا ہیں یا نہیں اور کوئی غلطی صرف اور نحو کی رو سے ان میں پائی جاتی ہے۔یا نہیں۔اگر نہیں پائی جائے گی تو پھر بالمقابل تفسیر لکھنے اور سوشعر کا قصیدہ بنانے میں کچھ عذر نہ ہوگا۔مگر دانشمندوں نے سمجھ لیا کہ بطالوی صاحب نے اپنی جان بچانے کے لئے یہ حیلہ نکالا ہے کیوں کہ ان کو خوب معلوم ہے که عربی یا فارسی کی کوئی مبسوط تالیف سہو اور غلطی سے خالی نہیں ہو سکتی اور حیلہ جو کے لئے کوئی نہ کوئی لفظ گو سہو کا تب ہی سہی حجت پیش کرنے کے لئے ایک سہارا ہو سکتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے بہت ہاتھ پیر مار کر اور مثل مشہور مرتا کیا نہ کرتا پر عمل کر کے یہ شرمناک عذر پیش کر دیا اور اپنے دل کو اس بازاری چالبازی سے خوش کر لیا کہ کسی ایک سہو کا تب یا فرض کرو اتفاقاً کسی غلطی کے نکلنے سے یہ حجت ہاتھ آجائے گی کہ اب غلطی تمہاری کسی کتاب میں نکل آئی اس لئے اب بحث کی ضرورت نہیں رہی۔لیکن افسوس کہ بطالوی صاحب نے یہ نہ سمجھا کہ نہ مجھے اور نہ کسی اور انسان کو بعد انبیاء علیہم السلام کے معصوم ہونے کا دعویٰ ہے۔جو شخص عربی یا فارسی میں مبسوط کتا بیں تالیف کرے گا۔ممکن ہے کہ حسب مقولہ مشہورہ قَلَّمَا سَلِمَ مِكْثَارٌ کے کوئی صرفی یا نحوی غلطی اس سے ہو جائے اور بباعث خطاء نظر کے اس غلطی کی اصلاح نہ ہو سکے۔اور یہ بھی ممکن ہے کہ سہو کا تب سے کوئی غلطی چھپ جائے اور باعث ذہول بشریت مؤلف کی اُس پر نظر نہ پڑے پھر اس یکطرفہ نکتہ چینی میں دونوں فریق کی علمی طاقتوں کا موازنہ کیونکر ہو۔غرض بطالوی صاحب کے ایسے بیہودہ جوابات سے یقینی طور پر