حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 248 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 248

حیات احمد ۲۴۸ جلد چهارم ”جہاں تک ہم نے تحقیقات کی ہے سورۃ الفاتحہ کے پڑھنے کے بغیر نماز ہی نہیں ہوتی۔اور ہمارا یہ مذہب ہے بلکہ میں تو یہ کہتا ہوں کہ نماز کی روح ہی سورۃ الفاتحہ ہے۔نماز کو مِـغـراج الْمُؤْمِن کہا گیا ہے اور اس معراج کو سورۃ الفاتحہ میں بیان کیا گیا ہے۔اور بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف بندہ کس طرح پر صعود کرتا ہے اور اللہ اکبر کہہ کر دنیا کی ساری قوتوں اور بڑائیوں کو پیچ سمجھتا ہے اور اللہ اکبر کہہ کر بتاتا ہے کہ کبریائی اللہ تعالیٰ ہی کی ذات کے لئے سزا وار ہے اس حقیقت کے پیدا ہونے پر بے اختیار اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید کرتا ہے اور اپنی عبودیت کا صحیح یقین کر کے اسی کے حضور گر کر دعا کرتا ہے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ۔تو ہر قسم کی کج رفتاری اور سمجھ گفتاری سے اسے نجات ملتی ہے۔اور اس طرح پر وہ اس راستہ (صراط مستقیم ) کو پالیتا ہے۔جو الوہیت اور عبودیت کے درمیان ہے اور جس پر جب انسان صحیح طریق سے چلتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف اس کا صعود ہوتا ہے اور الوہیت کی تجلیات اس پر ہوتی ہیں اور ان تجلیات میں ایک کشش ہوتی ہے۔جیسے مقناطیس میں ایک قوت کشش ہے۔تب وہ اپنے تمام اعمال وحرکات میں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف قدم اٹھاتا ہے اور اس سے کوئی ایسا فعل سرزد نہیں ہوتا جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے خلاف ہو ہر قدم اس کا اوپر کو اٹھتا ہے۔اور وہ فیضان ربانی کو حاصل کرتا ہے۔سورہ فاتحہ اسی لئے الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ سے شروع کی ہے۔غرض سورۃ فاتحہ نماز کی روح ہے۔اور بغیر اس کے تو نماز کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔میں تو اپنے تجربہ سے کہتا ہوں کہ نماز میں سورۃ فاتحہ کے پڑھنے کے لئے بے اختیار ایک جوش پیدا ہوتا ہے اور اس کے ہر لفظ سے روح میں اس طرح قوت پرواز پیدا ہوتی ہے۔جیسے ایک فوارہ کا پانی اچھلتا ہے۔مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ سورۃ فاتحہ پر غور کیا جاوے اور نماز تو سمجھ کر ہی پڑھنی چاہیے۔مولویوں نے اس مسئلہ کو بلا وجہ جھگڑے کا ذریعہ بنالیا ہے ہماری یہی ہدایت ہے کہ سورۃ فاتحہ کا امام کے پیچھے پڑھنا فرض ہے اور اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔آمین بِالْجَهْرِ اور رَفْعُ الْيَدَيْنِ ایسے مسائل میں پڑنا غیر ضروری ہے۔آمین بالجہر بھی