حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 239 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 239

حیات احمد ۲۳۹ جلد چهارم نام مباہلہ ہے آخر کار یہی طریق حضرت مرزا غلام احمد صاحب کو اپنے مکفر مولویوں کے مقابل عمل میں لانے کا ایما ہوا وَهُمْ بَدَؤُكُمْ اَوَلَ مَرَّةٍ کا مصداق اس امر میں مولوی لوگ ہی ہوئے ہیں۔حضرت کریم مسیح موعود بہت مدت تک اس سے کنارہ کرتے رہے۔مگر آخر اُن کے حد سے بڑھ جانے والی اصرار کے سبب سے حضرت کو اس سنت الہی سے تمام مخالفوں پر حجت قائم کرنی پڑی۔مامور من اللہ کو کچھ ڈر اور خوف نہیں ہوتا آپ نے خدا تعالیٰ سے یہ حکم پاتے ہی اُن مکفر مولویوں اور غیر قوموں کو جو بارہا پہلے بھی مباہلہ کے طلب گار ہو چکے تھے بذریعہ عام اشتہار ا طلاع دے دی کہ میں ان جلد باز مولویوں کے ساتھ جنہوں نے مجھے کافر بلکہ اکفر اور دجال قرار دیا ہے اور نہایت شد ومد سے عَلَى رَأْسِ الْأَشْهَاد بذریعہ تحریر یا تقریر زبان درازی کر کے مجھ کو باطل پر ٹھہرایا ہے۔اللہ تعالیٰ سے مامور ہو کر مباہلہ کا اشتہار دیتا ہوں وہ ۱۰ار ذی قعدہ ۱۳۱۰ھ کو امرتسر میں جہاں میں عیسائیوں کے ساتھ بحث کرنے کے واسطے جاتا ہوں۔عیدگاہ امرتسر کے میدان میں مباہلہ کے واسطے آجائیں اور اس آخری حجت کو بھی تمام کرالیں اور میرے حق میں دل کھول کر جو کہنا ہو کہہ لیں تا کہ اگر میں کافر اور دجّال بلکہ اکفر ہوں تو میرے منحوس وجود سے دنیا جلدی پا جائے اور اگر وہی جھوٹ اور باطل پر ہیں تو میری تائید میں ان پر کوئی نشان قائم ہو جائے یہ خطاب حضرت اقدس مرزا صاحب کا اَئِمَّةُ الكُفر سے تھا اور اس میں شیخ بٹالوی کو بھی بلایا تھا۔جب یہ اشتہار جاری ہوا تو شیخ بٹالوی نے کسی قدر شرائط کے ساتھ مباہلہ کا ہونا منظور کیا۔جن پر زمانہ قیام امرتسر حضرت اقدس مرزا صاحب اور ان کے درمیان خط و کتابت بھی ہوئی آخر کار وہ الفاظ جو میدان مباہلہ میں حضرت مقدس موصوف یا شیخ بٹالوی صاحب نے بروقت دعا مباہلہ بولنے تھے تحریری طور پر قرار پاگئے اور اپنے تحریری خط میں جو الفاظ مرزا صاحب کی طرف سے بولے جانے شیخ مذکور قرار دیتے تھے اور ان پر رضامند ہو گئے تھے وہی حضرت اقدس جناب مرزا صاحب نے منظور فرمالئے۔اور شیخ بٹالوی کا خط سنداً اپنے پاس رکھ لیا۔بٹالوی نے ۱۰ ذیقعدہ ۱۳۱۰ھ کو امرتسر میں آنا منظور کر لیا۔اور یہ بھی شرطیہ طور پر قرار دیا گیا کہ سوائے مباہلہ کے کسی فریق کو اختیار