حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 14 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 14

حیات احمد ۱۴ جلد چهارم کی جون میں نہ پڑے تب تک کوئی سبیل اور کوئی چارہ اور کوئی علاج اس کے گناہ بخشے جانے کا نہیں۔گویا اس دنیوی زندگی میں ایک صغیرہ گناہ کرنے سے بھی تمام دروازے رحمت کے بند ہو جاتے ہیں اور آخر انسان ایک لاعلاج بیماری سے بڑے درد اور دکھ کے ساتھ اور سخت نومیدی کی حالت میں دوسرے عالم کی طرف کوچ کرتا ہے۔بلکہ قرآن کریم میں نجات کی وہ صاف اور سیدھی اور پاک را ہیں بتلائی گئی ہیں کہ جن سے نہ تو انسان کو خدا تعالیٰ سے نومیدی پیدا ہوتی ہے اور نہ خدائے تعالیٰ کو کوئی ایسا نالائق کام کرنا پڑتا ہے کہ گناہ تو کوئی کرے اور سزا دوسرے کو دی جاوے۔غرض یہ کتاب ان نادر اور نہایت لطیف تحقیقاتوں پر مشتمل ہے جو مسلمانوں کی ذریت کے لئے نہایت مفید اور آج کل روحانی ہیضہ سے بچنے کے لئے جو اپنے زہرناک مادہ سے ایک عالم کو ہلاک کرتا جاتا ہے نہایت مجرب اور شفا بخش شربت ہے اور چونکہ یہ بیرونی اور اندرونی دونوں قسم کے فسادوں کی اصلاح پر مشتمل ہے اور جہاں تک میرا خیال ہے میں یقین کرتا ہوں کہ یہ کتاب اسلام اور فرقان کریم اور حضرت سیدنا و مولانا خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی برکات دنیا پر ظاہر کرنے کے لئے ایک نہایت عمدہ اور مبارک ذریعہ ہے۔“ تبلیغ رسالت جلد ۲ صفحہ ۱۱۳ ۱۱۴۰۔مجموعہ اشتہارات جلد اصفحه ۲۷۵، ۲۷۶ طبع بار دوم ) پھر اسی سلسلہ میں ایک دوسرا اعلان کتاب کی تکمیل اور اشاعت پر آئینہ کمالات اسلام کے ساتھ بطور ضمیمہ شائع کیا جس میں کتاب کے مقاصد اور اس کی برکات کی توضیح ہے چنانچہ لکھا