حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 13 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 13

حیات احمد ۱۳ جلد چهارم براہین کے ذریعہ بلکہ آسمانی تائیدی نشانات کے ذریعہ کیا گیا۔اس کتاب کی تالیف تو جہاں تک دستاویزی ثبوت ملتا ہے ۱۸۹۲ء کی دوسری ششماہی میں شروع ہوگئی تھی لیکن آپ کی دوسری دینی مصروفیتوں واردین صادرین کی تربیت و مہمان نوازی اور مختلف اطراف سے آنے والے خطوط کے جوابات کے لمبے سلسلہ نے اس کی اشاعت تک آٹھ ماہ کے قریب عرصہ لیا۔سب سے پہلی مرتبہ آپ نے ۱۰ اگست ۱۸۹۲ء کو ایک اشتہار کے ذریعہ اس کتاب کے ☆ متعلق اعلان فرمایا جس کا ابتدائی حصہ حسب ذیل ہے۔یہ کتاب جس کا نام عنوان میں درج ہے میں نے بڑی محنت اور تحقیق اور تفتیش سے صرف اس غرض اور نیت سے تالیف کی ہے کہ تا اسلام کے کمالات اور قرآن کریم کی خوبیاں لوگوں پر ظاہر کروں اور مخالفین کو دکھلاؤں کہ فرقان حمید کن اغراض کے پورا کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔اور انسان کے لئے اس کا کیا مقصد ہے۔اور اس مقصد میں کس قدر وہ دوسرے مذاہب سے امتیاز اور فضیلت رکھتا ہے اور با ایں ہمہ اس کتاب میں ان تمام اوہام اور وساوس کا جواب بھی دیا گیا ہے۔جو کوتاہ نظر لوگ مدعیان اسلام ہو کر پھر ایسی باتیں منہ پر لاتے ہیں جو درحقیقت اللہ اور رسول اور قرآن کریم کی ان میں اہانت ہے۔اسی وجہ سے اس کتاب کا دوسرا نام دافع الوساوس بھی رکھا گیا ہے۔لیکن ہر مقام اور ہرمحل میں زور کے ساتھ اس بات کو ثابت کیا گیا ہے کہ دنیا میں ایک دین اسلام ہی ہے جس کو دین اللہ کہنا چاہیے جو سچائی کو سکھلاتا اور نجات کی حقیقی راہیں اس کے طالبوں کے لئے پیش کرتا ہے اور اُخروی رستگاری کے لئے کسی بے گناہ کو پھانسی دینا نہیں چاہتا اور نہ انسان کو بخشایش الہی سے ایسا نومید کرتا ہے کہ جب تک ایسا گنہگار انسان کروڑہا کیڑوں مکوڑوں وغیرہ حیوانات یہ اعلان تبلیغ رسالت جلد ۲ صفحہ ۱۱۳ تا ۱۱۶ ( مجموعہ اشتہارات جلد اصفحہ ۲۷۵ تا ۷ ۲۷) پر درج ہے۔