حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 217
حیات احمد ۲۱۷ جلد چهارم ہو جائے گی اب اس سے زیادہ میں کیا لکھ سکتا ہوں جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ ہی فیصلہ کر دیا ہے۔اب ناحق بننے کی جگہ نہیں اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے لئے سولی تیار رکھو اور تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی قرار دو۔لیکن اگر میں سچا ہوں تو انسان کو خدا مت بناؤ۔توریت کو پڑھو کہ اس کی اوّل اور کھلی کھلی تعلیم کیا ہے۔اور تمام نبی کیا تعلیم دیتے آئے۔اور تمام دنیا کس طرف جھک گئی۔اب میں آپ سے رخصت ہوتا ہوں اس سے زیادہ نہ کہوں گا۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى - اس بیان کا اثر جنگ مقدس روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۸۶ تا ۲۹۳) جس وقت حضرت نے یہ فقرہ لکھانا شروع کیا آج رات جو مجھ پر کھلا تو ایک سناٹا سا چھا گیا۔اور حاضرین ہمہ تن متوجہ ہو گئے۔اور آتھم صاحب نے جب پیشگوئی کو سنا تو اس پر ایک حیرت انگیز اثر ہوا وہ سخت گھبرا گیا اور زبان نکالی اور بے اختیار کہہ اٹھا ” میں نے دجال نہیں کہا اور یہ بدحواسی کی علامت تھی۔وہ اندرونہ بائبل میں ایسا کہہ چکا تھا۔مگر پیشگوئی کے الفاظ کی ہیبت اور جلالی قوت نے اُسے انکار اور مِنْ وَجہ رجوع کرنے کا موقعہ دیا۔بہر حال حاضرین پر ایک خاص اثر ہوا۔حضرت اقدس کا چہرہ اس وقت تجلیات الہیہ کا مظہر معلوم ہوتا تھا۔آپ کے بیان میں ایک شوکت اور قوت تھی۔غرض اس پیشگوئی پر یہ مباحث ختم ہو گیا۔خواجہ یوسف شاہ صاحب کی تقریر مباحثہ کے خوش اسلوبی سے ختم ہونے پر خواجہ یوسف شاہ صاحب آنریری مجسٹریٹ نے ( جو برابر مباحثہ میں آتے رہے تھے ) ایک مختصر تقریر میں نہایت عمدگی سے ختم ہونے پر شکر یہ ادا کیا۔اور ضمناً انہوں نے کہا کہ اس مباحثہ سے اسلام کی حقیقت اور عیسائیت کے عقائد پر غور