حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 215 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 215

حیات احمد ۲۱۵ جلد چهارم ۹ بجکر ۲۳ منٹ پر اپنا آخری مضمون لکھوانا شروع کیا۔۱۰ جگر ۳۳ منٹ پر ختم فرمایا یہ مضمون چونکہ ایک عظیم الشان نشان کا حامل ہے اس لئے میں اس کے اول اور آخر کو درج کر دیتا ہوں تا کہ قارئین کرام کو معلوم ہو کہ کس یقین اور بصیرت کے ساتھ آپ اسلام کی صداقت کو تازہ بتازہ نشانات کے ذریعہ پیش کرتے ہیں۔آج یہ میرا آخری پرچہ ہے جو میں ڈپٹی صاحب کے جواب میں لکھاتا ہوں مگر مجھے بہت افسوس ہے کہ جن شرائط کے ساتھ بحث شروع کی گئی تھی ان شرائط کا ڈپٹی صاحب نے ذرا پاس نہیں فرمایا۔شرط یہ تھی کہ جیسے میں اپنا ہر ایک دعوئی اور ہر ایک دلیل قرآن شریف کے معقولی دلائل سے پیش کرتا گیا ہوں ڈپٹی صاحب بھی ایسا پیش کریں لیکن وہ کسی موقعہ پر اس شرط کو پورا نہیں کر سکے۔بالآخر چونکہ ڈپٹی عبد اللہ آتھم صاحب قرآن شریف کے معجزات سے عمداً منکر ہیں اور اس کی پیش گوئی سے بھی انکاری ہیں۔اور مجھ سے بھی اسی مجلس میں تین بیمار پیش کر کے ٹھٹھا کیا گیا کہ اگر دین اسلام سچا ہے اور تم فی الحقیقت ملہم ہو تو ان تینوں کو اچھے کر کے دکھاؤ حالانکہ میرا یہ دعوی نہ تھا کہ میں قادر مطلق ہوں نہ قرآن شریف کے مطابق مواخذہ تھا بلکہ یہ تو عیسائی صاحبوں کے ایمان کی نشانی ٹھہرائی گئی تھی کہ اگر وہ بچے ایماندار ہوں تو وہ ضرور لنگڑوں اور اندھوں اور بہروں کو اچھا کریں گے۔مگر تا ہم میں اس کے لئے دعا کرتا رہا۔اور آج رات جو مجھ پر کھلا وہ یہ ہے کہ جبکہ میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے جناب الہی میں دعا کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں تیرے فیصلہ کے سوا کچھ نہیں کر سکتے تو اس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور بچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہادیہ میں گرایا