حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 214 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 214

حیات احمد ۲۱۴ کسی کو صحیح سالم کر دو اور جو اس معجزہ سے ہم پر فرض و واجب ہوگا ہم ادا کریں گے۔“ جلد چهارم جنگ مقدس روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۵۰) اس تقریر کے ساتھ ہی ان تینوں آدمیوں کو لا کھڑا کر دیا۔اور عیسائیوں میں ایک خوشی کی لہر دوڑ گئی اور انہوں نے سمجھا کہ میدان مارلیا۔ڈاکٹر صاحب نے اپنے دل کے پھپھولے خوب پھوڑے مگر ان کی تحریر شائع شدہ ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ غصہ اور جوش سے کلام کرتے ہیں۔چنانچہ جب بیماروں کو پیش کرنے کا مطالبہ بروئے انجیل انہیں پر لوٹ پڑا تو وہ بے اختیار ہو کر اس کا جواب یوں دیتے ہیں۔رائی کے دانہ پر آپ کے پیر پھر پھیلے اور پہاڑوں پر جاکھہرے ورنہ کیسی عجب جوتی آپ نے پشمینہ میں لپیٹ کر ہمارے سر پر چلائی کہ جا گو اٹھو ورنہ رائی بھر ایمان نہیں رہتا۔آپ نہ گھبرائے ایمان کہیں نہیں جاتا ہے خدمت میں عرض کیا گیا کہ یہ فرمایا صرف رسولوں کے لئے ہے نہ ہمارے لئے۔“ دوسرا دور جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۷۵) اس طرح پر مباحثہ کا پہلا دور ختم ہوا جس میں حضرت اقدس عیسوئیت کے موجودہ عقائد پر سوال کرتے تھے۔اور پادریوں کے ذمہ جواب دہی تھی اور ۳۰ رمئی ۱۸۹۳ء سے مباحثہ کا دوسرا دور شروع ہوا۔جس میں اسلام پر پادریوں کے اعتراضات اور حضرت کے ذمہ ان کا جواب تھا۔مباحثہ کا آخری دن اس دوسرے دور کا آغاز ۳۰ رمئی ۱۸۹۳ء کو ہوا اور ۵/ جون ۱۸۹۳ء کو ختم ہو گیا ان ایام کی روئداد تو پہلے درج ہو چکی ہے آخری دن تجلیات الہیہ کا ظہور اور کسر صلیب کا دن تھا۔اس روز کثرت سے امرتسر کے عمائد اور رؤسا بھی شریک جلسہ تھے حضرت مرزا صاحب نے