حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 12 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 12

حیات احمد ۱۲ جلد چهارم میں نے کچھ دیر نیند کی اور فجر کی نماز میں شریک ہوا۔نماز کے بعد بھی حضرت نے میری تکلیف کا ذکر فرمایا اور اظہار ہمدردی فرماتے رہے۔میں محسوس کرتا تھا کہ میری تکلیف کا آپ کو خاص احساس ہے اور یہ میرے ساتھ مختص نہ تھا ہر کسی کی تکلیف کو آپ محسوس فرماتے (علیہ الصلوۃ والسلام ) میں کچھ عرصہ قیام کر کے واپس لاہور آیا اور پھر رکھا نوالہ تحصیل قصور ضلع لاہور چلا گیا۔میرے قیام قادیان ہی کے زمانہ میں جنڈیالہ ضلع امرتسر سے میاں محمد بخش پانڈہ مرحوم کا خط عیسائیوں سے مباحثہ کی تحریک کے سلسلہ میں آیا اس کا ذکر اپنے موقع پر آئے گا۔بِحَوْلِہ تَعَالٰی ۱۸۹۳ء کا آغاز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوی کے ساتھ ہی جس طرح مخالفت کا ایک طوفان برپا ہوا اسی طرح سلسلہ کی لہر بھی شروع ہو گئی باوجودیکہ وہ لہر کمزور تھی مگر وہ اس طوفان کا مقابلہ کرتی جا رہی تھی۔ہر نیا دن نئی شان سے نمودار ہوتا تھا۔جہاں مخالفت بڑھتی تھی ترقی بھی ہورہی تھی۔جیسا کہ قارئین کرام پچھلی جلد میں پڑھ چکے ہیں۔۱۸۹۲ء کے سالانہ جلسہ میں مقاصد سلسلہ کی تبلیغ و اشاعت کے لئے تجاویز سوچی گئیں اور ان کو عملی صورت دینے کے لئے آغا ز کا ر ہوا۔آئینہ کمالات اسلام کی اشاعت اس سلسلہ میں بڑے بڑے برکات اور آیات کا ظہور ہوا جس کی تفصیل آگے آتی ہے۔آپ کے کارناموں میں ایک بڑا کام تالیفات کا ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو سلطان القلم کا خطاب دیا اور یہ قلم آپ کی آخری ساعت تک کام کرتا رہا۔اس سال کے آغاز یعنی فروری ۱۸۹۳ء میں آئینہ کمالات اسلام ( ایک ضخیم اور حقائق و معارف قرآن کریم و صداقت اسلام کے دلائل و براہین پر مشتمل ہے) شائع ہوئی جس کے ذریعہ تمام ادیان باطلہ پر اتمام حجت نہ صرف دلائل و