حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 209
حیات احمد ۲۰۹ جلد چهارم قادر مطلق عالم الغیب دن رات آپ کے ساتھ ہے جو چاہو وہی دے سکتا ہے۔پس آپ حضرت مسیح سے درخواست کریں کہ ان تینوں بیماروں کو آپ کے ہاتھ رکھنے سے اچھا کر دیویں تا نشانی ایمانداری کی آپ میں باقی رہ جاوے ورنہ یہ تو مناسب نہیں کہ ایک طرف اہل حق کے ساتھ بہ حیثیت سچے عیسائی ہونے کے مباحثہ کریں اور جب بچے عیسائی کے نشان مانگے جائیں تب کہیں کہ ہم میں استطاعت نہیں اس بیان سے تو آپ اپنے پر ایک اقبالی ڈگری کراتے ہیں کہ آپ کا مذہب اس وقت زندہ مذہب نہیں ہے لیکن ہم جس طرح پر خدا تعالیٰ نے ہمارے بچے ایماندار ہونے کے نشان ٹھہرائے ہیں اس التزام سے نشان دکھلانے کو تیار ہیں اگر نشان نہ دکھلا سکیں تو جو سزا چاہیں دے دیں اور جس طرح کی چھری چاہیں ہمارے گلے پر پھیر دیں۔جب یہ بیان لکھوایا جا رہا تھا تو عیسائیوں میں ایک بھا گڑ مچ گئی اور ان بیماروں کو اتنی جلد غائب کر دیا کہ وہ پھر نظر نہ آئے۔اور جو صاحبان انہیں جمع کر کے لائے تھے پادری وارث دین وغیرہ وہ بھی سب غائب ہو گئے۔صدر مجلس پر ایک سناٹا چھا گیا اور مسلمانوں کی جماعت اللہ تعالیٰ کی اس قدرت نمائی کو دیکھ کر قریب تھا کہ بے اختیار نعرہ تکبیر بلند کرتی مگر انہوں نے دیکھا کہ حضرت اپنے وقار کو قائم رکھے ہوئے ایک کامل اطمینان سے جواب لکھوا رہے ہیں یہ دراصل یوم الفتح تھا۔مباحثہ ختم ہو چکنے کے بعد مجھے بعض عیسائی صاحبان سے معلوم ہوا کہ اس تجویز کے پیش کرنے والوں کو ڈاکٹر کلارک نے تنبیہ کی اور ڈاکٹر کلارک پر پادری عمادالدین اور ٹھاکر داس صاحب نے بھی نکتہ چینی کی کہ ہم نے تو مباحثہ سے بھی روکا تھا۔پھر اسی قسم کی خفیف حرکات سے مشن کو سخت نقصان پہنچایا۔غرض اس طرح پر عیسائیوں نے جن آلات حرب سے اسلام پر حملہ کیا تھا وہ خودان ہی کے لئے کسر صلیب کا ذریعہ ہو گیا۔آخر میں پھر آپ نے چیلنج کو دہرایا میں دعوت حق کی غرض سے دوبارہ اتمام حجت کرتا ہوں کہ یہ حقیقی نجات اور حقیقی نجات کے برکات اور ثمرات صرف انہیں لوگوں میں موجود ہیں جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی