حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 11 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 11

حیات احمد جلد چهارم کوئی ایک گھنٹہ یا زیادہ سفر کرنے کے بعد ہم باغ کے آخری سرے پر پہنچے اس کے آگے پایاب پانی کی ڈھاب تھی اور پراوہ کے متصل کماد پیلنے کا ایک بیلنہ تھا جو بعد میں معلوم ہوا کہ وہ قادیان کے ایک مشہور ارائیں کا کا کا تھا پانی کے کنارے پہنچ کر ہم نے زور سے پوچھا کہ راستہ میں پانی کتنا گہرا ہے جواب ملا چلے آؤ گہرا نہیں اس وقت آگے صرف خالی اراضی تھیں اور مہمان خانہ کا وہ حصہ جو ایک زمانہ میں پریس اور پھر رتھ خانہ اور موٹر خانہ ہوا اس میں چراغ جلتا تھا اور روشنی تھی اس بیلنہ پر پہنچ کر راستہ پوچھا تو انہوں نے اس چراغ کا نشان دیکھ کر کہا کہ وہ چراغ مہمان خانہ میں جلتا ہے۔انسان جذبات اور تاثرات کا پتلا ہے اور میرے دماغ کو ایک مناسبت ہے کہ وہ مشاہدات سے تاثرات پیدا کرتا ہے۔میرا دل روشن ہو گیا اور ایک خوشی کی لہر پیدا ہوئی کہ یہ مبارک فال ہے ہمیں روشنی رہنمائی کر رہی ہے۔غرض وہاں پہنچے رمضان کا مہینہ تھا لوگ تہجد اور سحری کے لئے اٹھے ہوئے تھے۔حضرت حافظ حامد علی صاحب رضی اللہ عنہ ہی ناظر ضیافت ( کہنا چاہیے ) تھے ان سے اور ہا نہ میں ملاقات ہو چکی تھی۔وہ بڑی محبت سے اور ہنستے ہوئے ملے اور گول کمرہ میں لے گئے۔انہوں نے بے وقت آمد کی کیفیت سنی تو حیران ہوئے اور حضرت اقدس کو اسی وقت اطلاع دی۔وہ رحم و کرم کا پیکر اسی وقت آیا اور تکلیف دہ سفر کی کیفیت سے متاثر تھا۔بار بار فرماتے بڑی تکلیف ہوئی اب کھانا کھا کر آرام کرلو۔اور حافظ صاحب کو کچھ ہدایات دیں۔حافظ صاحب نے چار پائی اور بستر مہیا کیا میں جب لیٹ گیا تو وہ میرے پاؤں دبانے کو لپکے میں نے عذر کیا۔مگر وہ رکتے نہ تھے۔آخر میں انہوں نے فرمایا (وہ آہستہ بولتے تھے ان کی آواز اور حرکات اس وقت میری آنکھوں اور کانوں میں موجود ہیں ) مرزا صاحب نے مجھے حکم دیا ہے بہت تھک گئے ہیں ان کی خدمت کرو۔میری آنکھوں میں آنسو آ گئے کہ یہ شفقت اور کرم اور یہ شانِ مہمان نوازی! غرض میں نے حافظ صاحب سے عرض کیا کہ اب تعمیل حکم ہو چکی چھوڑ دیجیے۔اس چمار کو کھانا کھلا دیا گیا اور مقررہ مزدوری سے زائد دیا گیا۔گو اس کی غلطی سے دکھ ہوا اور سفر دو گنے سے زیادہ ہو گیا تھا۔اس نے کہا میں صبح کو مرغ بولنے پر چلا جاؤں گا۔