حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 196 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 196

حیات احمد ۱۹۶ جلد چهارم جواب لکھانا شروع کیا اور ۱۰ بجے ایک منٹ پر ختم کیا اور بلند آواز سے سنایا گیا۔بعد ازاں فریقین کی تحریروں پر میر مجلسوں کے دستخط ہو کے جلسہ برخاست ہوا۔رونداد ۳/ جون ۱۸۹۳ء ڈپٹی عبداللہ آتھم صاحب نے ۶ بجے ۲ منٹ پر لکھا نا شروع کیا اور ۶ بجے ۴۰ منٹ پر ختم ہوا اور بلند آواز سے سنایا گیا۔مرزا صاحب نے کے بجے ۲۷ منٹ پر لکھانا شروع کیا اور ۸ بجے ۲۰ منٹ پر ختم کیا اور بلند آواز سے سنایا گیا۔اور ڈپٹی صاحب نے ۹ بجے ۲۴ منٹ پر شروع کیا اور ۱۰ بجے ۲۰ منٹ پر ختم کیا اور بلند آواز سے سنایا گیا۔اور تحریروں پر میر مجلس صاحبان کے دستخط ہو کر جلسہ برخاست ہوا۔روئداد ۵/ جون ۱۸۹۳ء مرزا صاحب نے 4 بجے ۱۰ منٹ پر جواب لکھانا شروع کیا اور ے بجے ۱۰ منٹ پر ختم کیا اور بلند آواز سے سنایا گیا۔اور باہمی اتفاق سے یہ قرار پایا کہ آج بحث ختم ہوا اور آج کا دن بحث کا آخری دن سمجھا جاوے۔مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب نے ے بجے ۵۵ منٹ پر شروع کیا اور ۸ بجے ۵۵ منٹ پر ختم کیا اور بلند آواز سے سنایا گیا۔مرزا صاحب نے ۹ بجے ۲۳ منٹ پر شروع کیا اور ۱۰ بجے ۳۳ منٹ پر ختم کیا۔جناب خواجہ یوسف شاہ صاحب آنریری مجسٹریٹ امرت سر نے کھڑے ہو کر ایک مختصر تقر فرمائی اور حاضرین جلسہ کی طرف سے دونوں میر مجلسوں کا خصوصاً ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب کا شکر یہ ادا کیا کہ ان کی خوش اخلاقی اور عمدہ انتظام کی وجہ سے یہ جلسہ ۱۵ دن تک بڑی خوش اسلوبی اور خوبی کے ساتھ انجام پذیر ہوا۔اور اگر کسی امر پر اختلاف پیدا ہوا تو میر مجلسوں نے ایک امر پر اتفاق کر کے ہر دوفریق کو رضا مند کیا اور ہر طرح انصاف کو مد نظر رکھ کر صورت امن قائم رکھی۔