حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 186 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 186

حیات احمد ۱۸۶ جلد چهارم اللہ اللہ یہ رونق کیا تھی ایک قدرت خدا کا تماشا تھا۔دن بہ دن اس جماعت مخلصین کی تعداد بڑھتی جاتی تھی۔برعکس اس کے حریف مقابل کے عیسائی صاحبان کی جماعت میں یہ جمعیت خاطر نام کو بھی نہ تھی۔دو تین دن تو کچھ آدمی معلوم ہوئے۔پھر ایسی کمی ہونے لگی کہ آخر تک ریکا دو کا ہی رہ گئے۔باقی رفو چکر۔عیسائی جماعت کی طرف سے مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب اپنے وکیل کی نسبت مجھ کو ادب و نیاز اور اخلاص و محبت کے دیکھنے کی آرزو ہی آرزو رہی اور جس طرح کہ حضرت مقدس جناب مرزا صاحب کے اخلاص مندوں کا قیام برابر تاختم جلسہ قائم رہا عیسائی صاحبان اپنا ایسا استقلال اور قیام بھی نہ دکھا سکے۔رونداد مباحثه یه مباحثه ۲۲ رمئی ۱۸۹۳ء سے ۵/ جون ۱۸۹۳ء تک حسب شرائط جاری رہا۔اس دوران میں روزانه رویداد مقدمہ شائع کی جاتی تھی۔اور بالآخر کتابی صورت میں جنگ مقدس کے نام سے شائع ہوگئی۔جس پر کسی قسم کا نوٹ فریقین کی طرف سے نہیں دیا گیا۔تاکہ پبلک خود اندازہ کرلے۔میں یہاں صرف یکجائی طور پر ان ایام کی رویداد درج کرتا ہوں۔نفس مباحثہ کے لئے جنگ مقدس کو پڑھنا چاہیے۔ہر رویداد پر دونوں پریذیڈنٹوں کے دستخط ہوتے ہیں۔اس لئے صرف ایک پر دے دیئے ہیں۔اور ایک اس رویداد پر جس دن پریذیڈنٹ عیسائی تبدیل ہوا۔رونداد جلسه ۲۲ مئی ۱۸۹۳ء ۲۲ رمئی ۱۸۹۳ء کو سوموار کے روز ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب کی کوٹھی میں جلسہ مباحثہ منعقد ہوا۔سوا چھ بجے کارروائی شروع ہوئی۔مسلمانوں کی طرف سے منشی غلام قادر صاحب فصیح وائس پریذیڈنٹ میونسپل کمیٹی سیالکوٹ میر مجلس قرار پائے اور عیسائیوں کی طرف سے ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب میر مجلس قرار پائے۔مرزا صاحب کے معاون مولوی نورالدین صاحب حکیم، سید محمد احسن صاحب اور شیخ اللہ دیا صاحب قرار پائے۔اور ڈپٹی عبد اللہ آتھم صاحب کے معاون پادری جے۔ایل۔ٹھاکر داس