حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 185
حیات احمد ۱۸۵ جلد چهارم ایک تار بندھا ہوا تھا۔کبھی امرتسر کبھی لاہور دن کو یہاں تھے تو شام کو وہاں۔شوق نے ان کو پرندہ بنا دیا تھا۔چونکہ مہمانوں کی آمد ورفت زیادہ ہوگئی اور حاجی میر محمود صاحب داماد حاجی خان محمد شاہ صاحب بہادر نے جو رؤسا عظام امرت سر میں سے ہیں اور جو برابر حضرت مقدس کی خدمت میں آمد ورفت رکھتے تھے جب مکان کی تکلیف کو دیکھا تو ایک دفعہ ہی سب احباب کو مع حضرت مقدس کے جلسہ بحث سے اٹھتے ہی گاڑیوں پر سوار کرا کر ایک بڑے عالیشان فرش فروش سے آراستہ مکان میں جا اتارا۔نہایت پر تکلف ضیافت کی اور اسلامی اخوت اور محبت سے پیش آئے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے حاجی صاحب موصوف کے ذریعہ مکان کی دقت رفع کر دی اور سب احباب موجوده واردین و صادرین اس عظیم الشان عمارت میں آرام سے رہنے لگے۔یہ رفقاء کی جماعت حاجی محمد شاہ صاحب مرحوم کے مکان سے جو قیصر باغ کے پاس واقع ہے چل کر ہمرکاب حضرت مرزا صاحب برابر پا پیادہ کوٹھی ہنری مارٹن کلارک صاحب کی طرف صبح کو چھ بجے سے پیشتر روانہ ہو جاتے اور اابجے کے بعد اسی طرح پا پیادہ اپنے مرشد کے ہمرکاب واپس آتے تھے۔اس جماعت کثیرہ کا نہایت ادب و نیاز سے اپنے مرشد و امام کے پیچھے پیچھے شامل ہو کر ایک عاجزانہ وضع اور چال سے آنا جانا کل امرتسر کو حیرت میں ڈالتا تھا۔اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان سے عام و خاص باشندگان امرتسر میں ایک خاص عظمت اس جماعت اور اس کے حلیم و منکسر المزاج مرشد و امام کی پیدا ہوگئی اللہ تعالیٰ کی طرف سے قدرتاً ایک ایسا رعب چھایا کہ بڑے بڑے مخالفوں کی زبانیں بھی اس وقت بند پڑ گئیں۔جس محبت اور اخلاص سے اپنے مرشد و امام کے ساتھ یہ جماعت مین جلسہ بحث میں بھی حاضر ہوتی تھی وہ سماں بھی دیکھنے کے قابل تھا۔ہمہ تن گوش ہو کر بیٹھے ہیں سوائے حاجات ضروری کے نہیں اٹھتے دلوں میں خوف خدا اور منہ میں کلمات دعا گویا کہ اپنے انداز و وضع سے یہ اس تعلق خاطر کو جو اپنے مقدس اور پیارے مرشد سے ان کو ہے ظاہر کر رہے ہیں۔سینہ میں طیش ہے اخلاص و محبت کی آنکھیں حضرت اقدس کی طرف۔جلسہ برخاست ہوا۔حضرت اٹھے اور یہ عاشق بھی پروانہ کی طرح اس شمع کے گرد ہوئے اور حلقہ میں لے کر چل دیئے۔