حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 184 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 184

حیات احمد ۱۸۴ جلد چهارم دونوں طرف کے کاتبین قلمیں ہاتھوں میں لئے ہوئے تھے برآمدہ کی مشرقی دیوار کے ساتھ ہر دو پریزیڈینان کا اجلاس تھا۔منشی غلام قادر صاحب فصیح تو برابر فرش ہی پر بیٹھے تھے۔مگر ڈاکٹر صاحب بسبب فرش پر نہ بیٹھنے کے کوٹھی کے زینہ کے پہلے پایہ پر ذرا اونچے اجلاس فرما تھے۔حضرت اقدس کے خدام مباحثہ کے آغاز سے قبل ہی احباب کی آمد ورفت شروع ہوگئی تھی اور ۲۱ رمئی کی شام تک تو خاصہ اجتماع ہو گیا تھا اور پھر تو تانتا بندھ گیا۔اور مکان کی تکلیف محسوس ہونے لگی۔اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی تحریک کے انتظام کر دیا۔جیسا کہ آگے آتا ہے۔حضرت میر حامد شاہ صاحب نے اس کا نقشہ خوب کھینچا ہے۔حضرت اقدس جناب میرزا صاحب اور ان کے رفقاء اکثر احباب تو ۲۰ مئی ۱۳ ء کو حضرت موصوف کے ہمرکاب ہی امرتسر میں وارد ہوئے مگر بہت سے خادم دور دور کے شہروں سے جلسہ کے دنوں میں بھی آتے رہے چونکہ جلسہ برابر پندرہ روز تک قائم رہا۔اور کئی احباب قلیل الفرصت یا ملازم پیشہ تھے اس لئے یوں ہی ہوتا رہا کہ ایک ایک دن یا دو دو دن رہ کر چلے جاتے رہے۔جہلم، رہتاس ، سیالکوٹ ، وزیر آباد، لاہور، بٹالہ، ضلع گورداسپور، ریاست پٹیالہ، کپورتھلہ ، ڈیرہ دون وغیرہ تک کے شائقین نہایت صدق و اخلاص و ادب و نیاز سے حاضر ہوتے رہے۔لاہور کے احباب نے تو حد کر دی تھی۔بیچارے ملازم یا کاروباری۔ملازم تو کچہری کی تعطیل خواہ اتوار ہی کیوں نہ ہو ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے۔اگر شرکت جلسہ کا موقعہ مل گیا تو زہے نصیب ورنہ حضرت کی زیارت ہی کر کے دوسرے وقت کی ٹرین پر رخصت ہو جاتے تھے۔کاروباری احباب آتے دو دو تین تین دن جلسہ میں حاضر رہ کر واپس لاہور جاتے ایک دو دن کام دیکھ بھال دوکانیں بند کر کاروبار چھوڑ حاضر ہو جاتے۔ان لوگوں کا