حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 183 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 183

حیات احمد ۱۸۳ جلد چهارم عبدالکریم صاحب اوّل سے آخر تک برابر بلند آواز سے سناتے رہے مگر عیسائی صاحبان نے بھی اس امر میں وہی پہلو اختیار کیا۔جو پہلے کاتبوں کے بارے میں ذکر ہو چکا ہے اس واسطے عیسائی صاحبان کے قاریوں کے نام بتلانے میں بھی وہی معذوری ہے جو ان کے کاتبوں کے نام بتلانے میں ہوئی ہے۔رہا یہ مقابلہ کہ اسلامی جماعت کے قاری صاحب کیسے رہے اور عیسائی صاحبان کے قاریوں نے کیا لیاقت دکھائی اول تو یہ مقابلہ کرتے ہوئے ہی دل رکتا ہے کیونکہ مولوی عبد الکریم صاحب کی لیاقت اور طرز بیان میں ایک قیامت کا اثر پایا جاتا ہے جس کے سامنے عیسائی جماعت کے قاریوں کی لیاقت اور طرز قراءت کو ایک طفلانہ سبق خوانی سے بھی کم رتبہ پر ماننا پڑتا ہے۔مقابلہ اور موازنہ کرنے کے لئے کچھ تو نسبت ہو۔کہاں ایک من اور کہاں ایک رتی ماشے تو لے۔اس میں خود پریذیڈنٹ عیسائی صاحبان کی ہی شہادت کافی ہے۔کہ انہوں نے صاف کہہ دیا کہ مولوی عبد الکریم صاحب پڑھنے کا حق کیا ادا کرتے ہیں۔بلکہ اگر کوئی تحریر حق نہ بھی رکھتی ہو تو اپنی لیاقت قراءت سے اس میں حق پیدا کر دیتے ہیں یا یہ کہ کچھ حق سے بھی بڑھ کر ادا کرتے ہیں۔مولوی عبد الکریم صاحب کی طرز ادائی بیان تیر کی طرح عیسائیوں کو چھتی تو تھی اور کبھی کبھی اس کے درد سے بے اختیار ہو کر چلا بھی اٹھتے تھے۔مولوی عبدالکریم صاحب مناسب موقعہ پر زیادہ وضاحت کے خیال سے فقرہ کو مکر رسہ کر ر بھی ادا کرتے تھے۔یہ طرز عیسائی صاحبان کو بہت ہی شاق گزرتا تھا۔چنانچہ پادری احسان اللہ صاحب نہ رہ سکے اور انہوں نے گھبرا کر کہہ دیا کہ دو دفعہ یا تین دفعہ لکھا ہوا ہے کہ مکر رسہ کر ر پڑھا جاتا ہے۔مولوی صاحب نے اس کا جواب صرف اسی قدر دیا کہ آپ بیشک چار دفعہ پڑھ لیں اور یہ ہی جواب نہایت مناسب تھا مگر اس خدا داد نعمت کو جو مولوی صاحب موصوف میں تھی وہ کسی طور سے رد نہیں کر سکتے تھے۔یہاں تک تو انعقاد جلسہ اور اس کی ترتیب کا مع متعلقات ضروری کے ذکر ہوا۔اب یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ فریقین کی نشست کا رخ کیا تھا؟ وہ یہ کہ بالمقابل ہر دو جماعت کی نشست جانب مغرب حضرتنا مرزا صاحب اور ان کے رفقاء۔جانب شمال ڈیٹی عبداللہ آتھم اور دیگر عیسائی صاحبان درمیان میں