حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 160 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 160

حیات احمد 17۔جلد چهارم اور مسلمانوں میں پنجاب اور ہندوستان میں ہورہے ہیں؟ جن کا ماحصل یہ ہے کہ مسلمان تو اپنے خیال میں یہ یقین رکھتے ہیں کہ ہم نے عیسائیوں کو ہر یک بات میں شکست دی ہے عیسائی اپنے گھر میں یہ باتیں کرتے ہیں کہ مسلمان لا جواب ہو گئے ہیں۔اگر اسی قدر ہے تو یہ بالکل بے فائدہ اور تحصیل حاصل ہے اور بجز اس بات کے اس کا آخری نتیجہ کچھ نظر نہیں آتا کہ چند روز بحث مباحثہ کا شور وغوغا ہوکر پھر ہر یک فضول گو کو اپنی ہی طرف کا غلبہ ثابت کرنے کے لئے باتیں بنانے کا موقعہ ملتا ر ہے مگر میں یہ چاہتا ہوں کہ حق کھل جائے اور ایک دنیا کو سچائی نظر آجائے۔اگر فی الحقیقت مسیح علیہ السلام خدا ہی ہیں اور وہی رب العالمین اور خالِقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ہے تو بے شک ہم لوگ کافر کیا اسفر ہیں۔اور بے شک اس صورت میں دین اسلام حق پر نہیں ہے لیکن اگر مسیح علیہ السلام صرف ایک بندہ خدا تعالیٰ کا نبی اور مخلوقیت کی تمام کمزوریاں اپنے اندر رکھتا ہے تو پھر یہ عیسائی صاحبوں کا ظلم عظیم اور کفر کبیر ہے کہ ایک عاجز بندہ کو خدا بنارہے ہیں اور اس حالت میں قرآن کے کلام اللہ ہونے میں اس سے بڑھ کر اور کوئی عمدہ دلیل نہیں کہ اس نے نابودشدہ تو حید کو پھر قائم کیا اور جو اصلاح ایک سچی کتاب کو کرنی چاہیے تھی وہ کر دکھائی اور ایسے وقت میں آیا جس وقت میں اس کے آنے کی ضرورت تھی یوں تو یہ مسئلہ بہت ہی صاف تھا کہ خدا کیا ہے اور اس کی صفات کیسی ہونی چاہیے۔مگر چونکہ اب عیسائی صاحبوں کو یہ مسئلہ سمجھ میں نہیں آتا اور معقولی و منقولی بحثوں نے اس ملک ہندوستان میں کچھ ایسا ان کو فائدہ نہیں بخشا۔اس لئے ضرور ہوا کہ اب طرز بحث بدل لی جائے۔سو میری دانست میں اس سے انسب طریق اور کوئی نہیں کہ ایک روحانی مقابلہ مباہلہ کے طور پر کیا جائے اور وہ یہ کہ اول سے اسی طرح چھ دن تک مباحثہ ہو جس مباحثہ کو میرے دوست قبول کر چکے