حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 158 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 158

حیات احمد ۱۵۸ جلد چهارم مرزا صاحب کو اختیار ہوگا کہ اپنا یہ دعویٰ پیش کریں کہ ہر ایک مذہب کی صداقت زندہ نشانات سے ثابت کرنی چاہیے جیسا کہ انہوں نے اپنی چٹھی ۴ را پریل ۱۸۹۳ء موسومہ ڈاکٹر کلارک صاحب میں ظاہر کیا ہے۔پھر دوسرا سوال اٹھایا جائے گا۔پہلے مسئلہ الوہیت مسیح پر۔اور پھر مرزا صاحب کو اختیار ہوگا کہ کوئی اور سوال جو چاہیں پیش کریں مگر چھ دن کے اندراندر۔دوسرا زمانہ بھی چھ دن کا ہوگا یعنی مئی ۲۹ سے جون ۳ تک۔(اگر اس قدر ضرورت ہوئی ) اس زمانہ میں مسٹر عبداللہ انتظم خاں صاحب کو اختیار ہوگا کہ اپنے سوالات بہ تفصیل ذیل پیش کریں۔(ل) رحم بلا مبادلہ (ب) جبر اور قدر (ج) ایمان بالجبر (1) قرآن کے خدائی کلام ہونے کا ثبوت (ش) اس بات کا ثبوت کہ محمد صاحب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) رسول اللہ ہیں۔وہ اور سوال بھی کر سکتے ہیں بشرطیکہ ۶ دن سے زیادہ نہ ہو جائے۔) ٹکٹ ۱۵ رمئی تک جاری ہو جانے چاہیں۔وہ ٹکٹ مفصلہ ذیل نمونہ کے ہوں گے۔عیسائیوں اور ڈپٹی عبد اللہ آتھم خاں صاحب کی طرف سے یہ قواعد واجب الا طاعت اور صحیح تحریر مانی گئی۔بطور شہادت میں (جس کے دستخط نیچے درج ہیں) مسٹر عبداللہ آٹھم خاں صاحب کی طرف سے دستخط کرتا ہوں۔اور مذکورہ بالا شرائط میں سے کسی شرط کا توڑنا فریق توڑنے والے کی طرف سے ایک اقرار گریز خیال کیا جائے گا۔“ تقریروں پر صاحبان صدر اور تقریر کنندگان اپنے اپنے دستخط ان کی صحت کے ثبوت میں ثبت کریں گے۔