حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 136
حیات احمد ۱۳۶ جلد چهارم کتاب کے پڑھنے والوں کو معلوم ہے کہ اپنی ابتدائی زندگی میں بٹالہ اور سیالکوٹ کے عیسائیوں سے بالواسطہ اور بلا واسطہ تبادلہ خیالات ہوتا رہتا تھا۔اور اخبار منشور محمدی بنگلور میں آپ کے مضامین وقتاً فوقتاً عیسائیوں کے اعتراضات کے جواب میں شائع ہوتے تھے جن میں نہ صرف ان کے اعتراضوں کا جو وہ اسلام پر کرتے جواب ہوتا بلکہ بالمقابل عیسائیوں کے عقائد باطلہ کی تردید بھی ہوتی یہ سلسلہ برابر جاری تھا۔آپ نے اس قوم پر اتمام حجت اور اظہارالدین کے رنگ میں جب مسیح موعود کا دعویٰ کیا تو عیسائیوں کو دعوت اسلام دی۔چنانچہ ۲۰ رمئی ۱۸۹۱ء کو جبکہ آپ لودہا نہ میں مقیم تھے ایک اعلان شائع فرمایا جس کا کچھ اقتباس حسب ذیل ہے۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ حَامِدًا وَ مُصَلِّيًا اشتہار بمقابل پادری صاحبان ذلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسْيْسِيْنَ وَرُهْبَانًا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ لي لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاء وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ خدا تعالیٰ ان آیات مندرجہ عنوان میں حضرت مسیح ابن مریم اور ان تمام انسانوں کو جو محض باطل اور ناحق کے طور پر معبود قرار دئیے گئے تھے مار چکا۔درحقیقت یہ ایک ہی دلیل مخلوق پرستوں کے ابطال کے لئے کروڑ دلیل سے بڑھ کر ہے کہ جن بزرگوں یا اور لوگوں کو وہ خدا بنائے بیٹھے ہیں وہ فوت ہو چکے ہیں اور اب وہ فوت شدہ ہیں زندہ نہیں ہیں۔اگر وہ خدا ہوتے تو ان پر موت وارد نہ ہوتی۔یقینا سمجھنا چاہیے کہ وہ لوگ جو ایک عاجز انسان کو الهُ الْعَالَمِینَ قرار دیتے ہیں وہ صرف ایک ہی ثبوت ہم سے مانگتے ہیں کہ ہم ان کے اس معبود کا مردہ ہونا اور اموات میں داخل ہونا ثابت کر دیں کیونکہ کوئی دانا مردہ کو خدا بنا نہیں سکتا۔اور تمام عیسائی بالا تفاق اس بات کے المائدة : ۸۳ محمد: ۲۰ النحل : ٢٢،٢١