حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 135 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 135

حیات احمد ۱۳۵ جلد چهارم ان تمام حضرات کی خدمت میں یہ رسالہ پیکٹ کر کے بھیجا جاتا ہے لیکن اگر اتفاقا کسی صاحب کو نہ پہنچا ہو تو وہ اطلاع دیں تا کہ دوبارہ بذریعہ رجسٹری بھیجا جائے۔راقم میرزا غلام احمد از قادیان (رساله دعوت قوم، روحانی خزائن جلدا اصفحه ۴۵ تا ۷۲۔مجموعہ اشتہارات جلد اصفحه ۵۸۰ تا ۶۱۳ طبع بار دوم ) ان علماء اور مشائخ میں سے بعض نے گف لسان کیا اور بعض جیسے حضرت غلام فرید سجادہ نشین چاچڑاں شریف نے صاف الفاظ میں آپ کے دعاوی کی تصدیق کی اور نہایت اخلاص اور ادب سے لبریز خطوط حضرت کی خدمت میں بھیجے اور جنہوں نے اپنی شوخی اور شرارت کے سلسلہ کو جاری رکھا ان کے انجام کے متعلق میں اَنْجَامُ الْمُكَذِّبِيْن میں ذکر کروں گا۔انشاء اللہ العزیز اگر توفیق ربی رفیق راہ ہوئی اور عمر نے مساعدت کی۔اس طرح پر مباہلہ کے میدان میں کسی کو آنے کی ہمت نہ ہوئی۔ہاں بعض نے انفرادی طور پر تحریر مباہلہ کیا۔اور انہوں نے اس کا مزا چکھ لیا جیسے اسمعیل علی گڑھی اور مولوی غلام دستگیر قصوری وغیرہ ان کا ذکر اپنی جگہ پر آئے گا۔عبدالحق غزنوی سے جو مباہلہ بمقام عیدگاہ امرتسر ہوا اس کا ذکر عیسائیوں کے ساتھ امرتسر میں جو مباحثہ ہوا ( اور جسے انہوں نے جنگ مقدس کا نام دیا ) اس کے سلسلہ میں تفصیل سے آئے گا۔پہلی جنگ مقدس بمقام امرتسر حضرت اقدس کی بعثت کے مقاصد میں کسر صلیب ایک اہم مقصد تھا۔اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں يَكْسِرُ الصَّلِيْب فرمایا گیا ہے اور ظاہر ہے کہ صلیب کے تو ڑنے سے یہ مقصد تو ہو نہیں سکتا تھا کہ آنے والا مسیح موعود صلیبوں کو تو ڑتا پھرے گا۔اس کا صاف اور صریح مفہوم یہ تھا کہ وہ عیسائی مذہب کے غلط عقائد کو توڑ دے گا۔اور یہ عجیب بات ہے کہ آپ کی فطرت میں یہ جذبہ تھا کہ عیسائیوں کے غلط عقائد کی آپ ہمیشہ تردید کرتے رہے جیسا کہ اس