حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 112 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 112

حیات احمد ۱۱۲ جلد چهارم بھی بنایا جاؤں۔پس اس سے زیادہ تر لعنت اور کیا ہوگی کہ دور دور تک ضد کے خیمے لگا رکھے ہیں۔اور بندر اور سور بننا اپنے لئے پسند کر لیا۔مگر حق کو قبول کرنا پسند نہیں کیا۔یہ بھی سمجھ نہیں کہ اگر مباہلہ کے بعد بھی حق کو قبول نہیں کرتا تو پھر ایسے مباہلہ سے فائدہ ہی کیا ہے۔اور اگر اپنی ہی دعا کے قبول ہونے اور لعنت کے آثار ظاہر ہونے پر بدن نہیں کانپتا تو یہ ایمان کس قسم کا ہے اور تعجب کہ یہ بات کہنا کہ میں اگر اپنے منہ کی لعنت کا اثر اپنے پر دیکھ بھی لوں اور جو تضرع سے درخواست عذاب کی تھی اس عذاب کا وارد ہونا بھی مشاہدہ کر لوں پھر بھی میں تکفیر سے باز نہیں آؤں گا۔کیا یہ ایمانداروں کے علامات ہیں۔اور کیا اسی خبث نیت پر مباہلہ کا جوش و خروش تھا۔اور چونکہ اس عاجز کی طرف سے مباہلہ کا اشتہار شائع ہو چکا ہے اور یہ اندیشہ ہے کہ کہیں دوسرے بزرگ بھی وہی اپنا جو ہر نہ دکھاویں جو عبدالحق نے دکھلایا یعنی مباہلہ کے آثار کو اپنے لئے تو اپنے مفید مطلب ہونے کی حالت میں حجت ٹھہرالیا مگر مخالف کے لئے یہ حجت نہیں۔لہذا اس اشتہار میں خاص طور پر میاں محمد حسین بطالوی اور میاں محی الدین لکھوکی والا اور مولوی عبدالجبار صاحب غزنوی اور ہر ایک نامی مولوی یا سجادہ نشین کو جو اس عاجز کو کافر سمجھتا ہے مخاطب کر کے عام طور پر شائع کیا جاتا ہے کہ اگر وہ اپنے تئیں صادق قرار دیتے ہیں تو اس عاجز سے مباہلہ کریں اور یقین رکھیں کہ خداوند تعالیٰ ان کو رسوا کرے گا، لیکن یہ بات واجبات سے ہوگی کہ فریقین اپنی اپنی تحریریں یہ ثبت دستخط گواہان شائع کر دیں کہ اگر کسی فریق پر لعنت کا اثر ظاہر ہو گیا تو وہ شخص اپنے عقیدہ سے رجوع کرے گا۔اور اپنے فریق مخالف کو سچا مان لے گا۔اور اس مباہلہ کے لئے اشخاص مندرجہ ذیل بھی خاص مخاطب ہیں۔محمد علی' واعظ ، ظہور الحسن سجادہ نشین بٹالہ منشی سعد اللہ مدرس لدھیانہ منشی محمد عمر سابق ملازم