حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 108 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 108

حیات احمد ۱۰۸ جلد چهارم مقابلہ نہ کریں تو یک طرفہ نشان بغیر کسی بے ہودہ شرط کے مجھ سے دیکھیں اور میرے نشان کے منجانب اللہ ہونے کے لئے یہ کافی ہے کہ اگر ایسا آریہ جس نے کوئی نشان دیکھا ہو بلا توقف مسلمان نہ ہو جائے تو میں اُس پر بددعا کروں گا۔پس اگر وہ ایک سال تک جذام یا نا بینائی یا موت کی بلا میں مبتلا نہ ہو تو ہر یک سزا اٹھانے کے لئے میں طیار ہوں اور باقی صاحبوں کے لئے بھی یہی شرائط ہیں۔اور اگر اب بھی میری طرف منہ نہ کریں تو اُن پر خدا تعالیٰ کی حجت پوری ہو چکی۔المشـ خاکسار غلام احمد قادیان ضلع گورداسپوره آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۷۲ تا ۲۷۸ مجموعه اشتہارات جلد اصفحه ۲۸۶ تا ۹ ۲۸ طبع بار دوم ) اس دعوت مباہلہ کو عملاً کسی نے قبول کر کے میدان میں آنے سے گریز کیا نہ تو علمائے مکفرین کو جرات ہوئی اور نہ دوسرے مذاہب کے لیڈروں کو اس روحانی مقابلہ کی ہمت ہوئی البتہ عبدالحق غزنوی کو اصرار تھا اس لئے آپ نے اتمام حجت کے لئے اس کے لئے بھی اعلان مباہلہ شائع کیا۔اشتہار مباہلہ میاں عبد الحق غزنوی و حافظ محمد یوسف صاحب ناظرین کو معلوم ہوگا کہ کچھ تھوڑا عرصہ ہوا ہے کہ غزنوی صاحبوں کی جماعت میں سے جو امرتسر میں رہتے ہیں ایک صاحب عبدالحق نام نے اس عاجز کے مقابلہ پر مباہلہ کے لئے اشتہار دیا تھا مگر چونکہ اس وقت یہ خیال تھا کہ یہ لوگ کلمہ گو اور اہل قبلہ ہیں ان کو لعنتوں کا نشانہ بنانا جائز نہیں۔اس لئے اس درخواست کے قبول کرنے سے اس وقت تک تأمل رہا جب تک کہ ان لوگوں نے کافر ٹھہرانے میں اصرار کیا اور پھر تکفیر کا فتویٰ تیار ہونے کے بعد اس طرف سے مباہلہ کا اشتہار دیا گیا جو کتاب آئینہ