حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 106 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 106

حیات احمد 1+4 جلد چهارم گیا ہے اور سمجھایا گیا ہے کہ دنیا میں فقط اسلام ہی حق ہے اور میرے پر ظاہر کیا گیا کہ یہ سب کچھ برکت پیروی حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تجھ کو ملا ہے۔اور جو کچھ ملا ہے اس کی نظیر دوسرے مذاہب میں نہیں۔کیونکہ وہ باطل پر ہیں۔اب اگر کوئی سچ کا طالب ہے خواہ وہ ہندو ہے یا عیسائی، یا آریہ یا یہودی یا بر ہمو یا کوئی اور ہے اس کے لئے یہ خوب موقعہ ہے جو میرے مقابل پر کھڑا ہو جائے۔اگر وہ امور غیبیہ کے ظاہر ہونے اور دعاؤں کے قبول ہونے میں میرا مقابلہ کر سکا تو میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اپنی تمام جائیداد غیر منقولہ جو دس ہزار روپیہ کے قریب ہوگی اُس کے حوالہ کر دوں گا یا جس طور سے اُس کی تسلی ہو سکے اُسی طور سے تاوان ادا کرنے میں اُس کو تسلی دوں گا۔میرا خدا واحد شاہد ہے کہ میں ہرگز فرق نہیں کروں گا۔اور اگر سزائے موت بھی ہو تو بدل و جان روا رکھتا ہوں۔میں دل سے یہ کہتا ہوں اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں سچ کہتا ہوں اور اگر کسی کو شک ہو اور میری اس تجویز پر اعتبار نہ ہو تو وہ آپ ہی کوئی احسن تجویز تاوان کی پیش کرے میں اس کو قبول کرلوں گا۔میں ہرگز عذر نہیں کروں گا۔اگر میں جھوٹا ہوں تو بہتر ہے کہ کسی سخت سزا سے ہلاک ہو جاؤں۔اور اگر میں سچا ہوں تو چاہتا ہوں کہ کوئی ہلاک شدہ میرے ہاتھ سے بیچ جائے۔اے حضرات پادری صاحبان جو اپنی قوم میں معزز اور ممتاز ہو آپ لوگوں کو اللہ جَلَّ شانہ کی قسم ہے جو اس طرف متوجہ ہو جاؤ۔اگر آپ لوگوں کے دلوں میں ایک ذرہ اُس صادق انسان کی محبت ہے جس کا نام عیسی مسیح ہے تو میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ ضرور میرے مقابلہ کے لئے کھڑے ہو جاؤ۔آپ کو اُس خدا کی قسم ہے جس نے مسیح کو مریم صدیقہ کے پیٹ سے پیدا کیا۔جس نے انجیل نازل کی جس نے میسیج کو وفات دے کر پھر مردوں میں نہیں رکھا بلکہ اپنی زندہ جماعت ابراہیم اور موسیٰ اور بیٹی اور دوسرے نبیوں کے ساتھ شامل کیا۔اور زندہ کر کے انہیں کے پاس آسمان پر بلا یا جو