حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 105
حیات احمد ۱۰۵ جلد چهارم سے ظاہر ہو۔یوں تو کوئی اپنی قوم کو دوسری قوموں سے خدا ترسی اور پرہیز گاری اور تو حید اور عدل اور انصاف اور دیگر اعمالِ صالحہ میں کم نہیں سمجھے گا پھر اس طور سے فیصلہ ہونا محال ہے۔اگر چہ ہم کہتے ہیں کہ اسلام میں وہ قابلِ تعریف با تیں ایک بے نظیر کمال کے ساتھ پائی جاتی ہیں جن سے اسلام کی خصوصیت ثابت ہوتی ہے۔مثلاً جیسے اسلام کی تو حید ، اسلام کے تقویٰ، اسلام کے قواعد، حفظان عفت ، حفظان حقوق جو عملاً و اعتقادا کروڑ ہا افراد میں موجود ہیں۔اور اس کے مقابل پر جو کچھ ہمارے مخالفوں کی اعتقادی اور عملی حالت ہے وہ ایسی شے ہے جو کسی منصف سے پوشیدہ نہیں۔لیکن جب کہ تعصب درمیان ہے تو اسلام کی ان خوبیوں کو کون قبول کرسکتا ہے۔اور کون سن سکتا ہے؟ سو یہ طریق نظری ہے اور نہایت بدیہی طریق جو دیہات کے ہل چلانے والے اور جنگلوں کے خانہ بدوش بھی اس کو سمجھ سکتے ہیں۔یہ ہے کہ اس جنگ وجدل کے وقت میں جو تمام مذاہب میں ہو رہا ہے اور اب کمال کو پہنچ گیا ہے اُسی سے مدد طلب کریں جس کی راہ میں یہ جنگ و جدل ہے۔جب کہ خدا تعالیٰ موجود ہے اور در حقیقت اُسی کے بارے میں یہ سب لڑائیاں ہیں تو بہتر ہے کہ اسی سے فیصلہ چاہیں۔اب واضح ہو کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے میری یہ حالت ہے کہ میں صرف اسلام کو سچا مذہب سمجھتا ہوں اور دوسرے مذاہب کو باطل اور سراسر دروغ کا پتلا خیال کرتا ہوں۔اور میں دیکھتا ہوں کہ اسلام کے ماننے سے نور کے چشمے میرے اندر بہہ رہے ہیں۔اور محض محبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے وہ اعلیٰ مرتبہ مکالمہ الہیہ اور اجابت دعاؤں کا مجھے حاصل ہوا ہے کہ بجز سچے نبی کے پیرو کے اور کسی کو حاصل نہیں ہو سکے گا۔اور اگر ہندو اور عیسائی وغیرہ اپنے باطل معبودوں سے دعا کرتے کرتے مر بھی جائیں تب بھی ان کو وہ مرتبہ نہیں مل سکتا۔اور وہ کلام الہی جو دوسرے ظنی طور پر اس کو مانتے ہیں میں اس کو سن رہا ہوں۔اور مجھے دکھلایا اور بتلایا