حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 104
حیات احمد ۱۰۴ جلد چهارم پر نہیں سمجھتے اور قرآن شریف کو ربانی کلام تسلیم نہیں کرتے اور ہمارے رسول کریم کو مفتری اور ہمارے صحیفہ پاک کتاب اللہ کو مجموعہ افترا قرار دیتے ہیں۔اور ایک زمانہ دراز ہم میں اور ان میں مباحثات میں گزر گیا اور کامل طور پر ان کے تمام الزامات کا جواب دے دیا گیا۔اور جو ان کے مذاہب اور کتب پر الزامات عائد ہوتے ہیں وہ شرطیں باندھ باندھ کر ان کو سنائے گئے۔اور ظاہر کر دیا گیا کہ ان کے مذہبی اصول اور عقاید اور قوانین جو اسلام کے مخالف ہیں کیسے دور از صداقت اور جائے نگ و عار ہیں۔مگر پھر بھی ان صاحبوں نے حق کو قبول نہیں کیا اور نہ اپنی شوخی اور بدزبانی کو چھوڑا۔آخر ہم نے پورے پورے اتمام حجت کی غرض سے یہ اشتہار آج لکھا ہے۔جس کا مختصر مضمون ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔صاحبو! تمام اہلِ مذاہب جو سزا جزا کو مانتے ہیں اور بقاء روح اور روز آخرت پر یقین رکھتے ہیں اگر چہ صدہا باتوں میں مختلف ہیں مگر اس کلمہ پر سب اتفاق رکھتے ہیں جو خدا موجود ہے۔اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اسی خدا نے ہمیں یہ مذہب دیا ہے اور اسی کی یہ ہدایت ہے جو ہمارے ہاتھ میں ہے اور کہتے ہیں کہ اس کی مرضی پر چلنے والے اور اس کے پیارے بندے صرف ہم لوگ ہیں اور باقی سب مورد غضب اور ضلالت کے گڑھے میں گرے ہوئے ہیں۔جس سے خدا تعالیٰ سخت ناراض ہے پس جب کہ ہر یک کا دعوی ہے کہ میری راہ خدا تعالیٰ کے موافق ہے اور مدار نجات اور قبولیت فقط یہی راہ ہے وبس۔اور اسی راہ پر قدم مارنے سے خدا تعالیٰ راضی ہوتا ہے اور ایسوں سے ہی وہ پیار کرتا ہے اور ایسوں کی ہی وہ اکثر اور اغلب طور پر باتیں مانتا ہے اور دعائیں قبول کرتا ہے تو پھر فیصلہ نہایت آسان ہے۔اور ہم اس کلمہ مذکورہ میں ہر یک صاحب کے ساتھ اتفاق کرتے ہیں۔ہمارے نزدیک بھی یہ بیچ ہے کہ بچے اور جھوٹے میں اسی دنیا میں کوئی ایسا ما بہ الامتیاز قائم ہونا چاہیے جو خدا تعالیٰ کی طرف