حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 91
حیات احمد ۹۱ هر زمان از بهر دیں ، در خون دل من می تپد محرم این درد ما ، جز عالم اسرار نیست آنچه بر ما می رود از غم ، که داند جز خدا زهر می نوشیم ، لیکن زہرہ گفتار نیست ہر کے غم خواری ءِ اہل و اقارب می گنده اے دریغ! ایں بے کسے را پیچ کس غمخوار نیست خونِ دیں بینم رواں چوں گشتگانِ کربلا اے عجب این مردمان را مهر آن دلدار نیست خیر تم آید ، چو بینم بذل شال در کار نفس کایں ہمہ جود و سخاوت ، در ره دادار نیست اے کہ داری مقدرت ، ہم عزم تائیدات دیں لیے لطف کن ، مارا نظر بر اندک و بسیار نیست جلد چهارم ترجمہ اشعار ہی میرا دل دین کی خاطر ہر وقت خون میں تڑپ رہا ہے ہمارے اس درد کا واقف خدا کے سوا اور کوئی نہیں۔کے غم جو ہم پر گزر رہا ہے اسے خدا کے سوا کون جان سکتا ہے ہم زہر پی رہے ہیں لیکن بولنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ہر شخص اپنے اہل وعیال کی غمخواری کرتا ہے مگر افسوس کہ دین بیکس کا کوئی غمخوار ہیں۔2 کشتگان کربلا کی طرح میں دین کا خون بہتا ہوا دیکھتا ہوں مگر تعجب ہے کہ ان لوگوں کو اس محبوب سے کچھ بھی محبت نہیں۔ملے جب میں نفسانی کاموں میں ان کی سخاوت دیکھتا ہوں تو حیران ہو جاتا ہوں کہ یہ دریا دلی اور سخاوت خدا کی راہ میں نہیں ہے۔الے اے وہ شخص جو توفیق بھی رکھتا ہے اور نصرت دین کا ارادہ بھی رکھتا ہے جتنا ہو سکے دے ہمیں تھوڑے بہت کا خیال نہیں۔