حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 108 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 108

حیات احمد 1+1 جلد سوم میں تشریف نہ لاویں۔کیونکہ کوئی پختہ معلوم نہیں۔جس وقت خدا تعالیٰ چاہے گا ملاقات ہو جائے گی۔والسلام خاکسار غلام احمد از قادیان ۲۳ فروری ۱۸۹۱ء مکتوبات احمد یہ جلد ۴ صفحه ۵ ، ۶۔مکتوبات احمد جلد اصفحه ۳۱۵، ۳۱۶ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) مولوی محمد حسین صاحب اور میر عباس علی صاحب مولوی محمد حسین صاحب اور میر عباس علی صاحب دونوں ایک ہی ترازو کے دو پلڑے ہیں میر صاحب نے براہین کی تالیف کے زمانہ میں جب کہ حضرت صاحب بالکل مستور تھے براہین کی اشاعت کے لئے بے انتہا کوشش کی اور حضرت صاحب سے اس قدرا خلاص بڑھا کہ آپ کے خطوط کو بغیر وضو پڑھتا نہ تھا اور وضو کر کے ایک رجسٹر میں ان کو نقل کرتا تھا۔مثیل مسیح کے دعوی کے ساتھ اُس کے دل میں قبض شروع ہوئی اور آخر وہ بڑے بڑے دعوی کر کے مخالفت کے لئے اٹھا اور بالآخر مولوی محمد حسین صاحب کے ساتھ مل گیا اور نا کام مر گیا۔مولوی محمد حسین صاحب کی حالت بھی اوپر بیان ہو چکی ہے مثیل مسیح کے دعوئی کے ساتھ اس نے مخالفت کے لئے قدم اٹھایا اور بڑے بڑے دعوی کئے لیکن آخر نا کام ہو کر تو بہ کر کے فوت ہو گیا۔میر عباس علی صاحب کا حشر بھی وہی ہوا کہ جو پہلے سے حضرت اقدس نے اس کو بذریعہ خطوط بتا دیا تھا۔مخالفت میں ترقی مندرجہ بالا خط و کتابت سے ظاہر ہے کہ جس قدر حضرت اقدس کوشش کرتے اور نرمی اور انکسار سے کام لیتے۔شیخ بٹالوی مخالفت میں شدت اختیار کرتے جاتے دراصل وہ حضرت کے انکسار سے یہ سمجھتا تھا کہ میرا پلہ بھاری ہے لیکن مقابلہ نے حقیقت کو کھول دیا جس کی تفصیل آگے آتی ہے۔