حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 96 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 96

حیات احمد ۹۶ جلد سوم مولوی محمد حسین صاحب نے اُس زمانہ کے مشہور اور ممتاز علماء سے علوم عربیہ کی تحصیل کی اور حدیث کی سند شیخ الکل مولوی سید نذیر حسین صاحب محدث دہلوی سے لی اور کچھ شک نہ تھا کہ مولوی محمد حسین صاحب اُن کے ممتاز شاگردوں میں سے ایک تھے۔ابتدائی زمانہ تعلیم میں جب حضرت اقدس تعلیم حاصل کر رہے تھے تو اُسی مکتب میں مولوی محمد حسین صاحب بھی شریک درس تھے اور اس لئے وہ حضرت صاحب سے خوب واقف تھے۔جب وہ فارغ التحصیل ہو کر آئے تو انہوں نے اہلحدیث کے عقائد کا اعلان شروع کیا جہاں تک عقائد اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کا تو عمل ہی یہی تھا چنانچہ وہ فرماتے ہیں ؎ دگر استاد را نامے ندانم که خواندم دبستان محمد در پنجاب میں اس وقت حنفی عقیدہ کے لوگوں کی ہی کثرت تھی اور مولوی محمد حسین صاحب نے جب ان لوگوں کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تو بٹالہ کے لوگوں کو بڑی تشویش ہوئی انہوں نے اس کو مذہب حقہ پر بڑا حملہ سمجھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اُن سے بحث کرنے کے لئے بلایا۔اس واقعہ کو خود حضرت کی زبان سے سنو ۱۸۶۸ ء یا ۱۸۶۹ء میں بھی ایک عجیب الہام اردو میں ہوا تھا جس کو اسی جگہ لکھنا مناسب ہے اور تقریب اس الہام کی یہ پیش آئی تھی کہ مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب بٹالوی کہ جو کسی زمانہ میں اس عاجز کے ہم مکتب بھی تھے ، جب نئے نئے مولوی ہو کر بٹالہ میں آئے اور بٹالیوں کو ان کے خیالات گراں گزرے تب ایک شخص نے مولوی صاحب ممدوح سے کسی اختلافی مسئلہ پر بحث کرنے کے لئے اس ناچیز کو بہت مجبور کیا چنانچہ اس کے کہنے کہانے سے یہ عاجز شام کے وقت اس شخص کے ہمراہ مولوی صاحب ممدوح کے مکان پر گیا اور مولوی صاحب کو مع ان کے والد صاحب کے مسجد میں پایا۔پھر خلاصہ یہ کہ اس احقر نے مولوی صاحب موصوف کی اس وقت