حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 95 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 95

حیات احمد ۹۵ جلد سوم لئے بند کر دیا اس لئے کہ مولوی محمد حسین صاحب کے ہاتھ میں ایک ماہوار رسالہ تھا اور ان مولوی صاحبان کے پاس صرف زبان تھی۔وہ اپنی تقریروں اور وعظوں میں اظہار مخالفت کرتے اور موعود لڑکے کی پیشگوئی پر ایک عام طوفان بے تمیزی پیدا ہو کر کچھ عرصہ کے لئے دب گیا۔سلسلہء بیعت کے بعد جب مثیل مسیح اور وفات مسیح ابن مریم کا اعلان ہوا تو سویا ہوا فتنہ جاگ اٹھا اور نہ صرف مولوی صاحبان بلکہ بعض وہ لوگ بھی جو الہام اور مکاشفات کے مدعی تھے اور لوگوں کا اُن کی طرف رجوع بھی تھا اپنی سرد بازاری کے خطرہ سے ( میں یہی کہوں گا ) مخالفت پر آمادہ ہوئے۔مگر سب سے بڑی حیران کن بات یہ ہے خود مولوی محمد حسین صاحب جو اس سے پہلے آپ کی کفش برداری کو باعث عزت سمجھتا تھا مخالفت پر آمادہ ہو گیا اور حقیقت یہ ہے کہ اس عہد میں سب سے بڑا مخالف وہی تھا۔مولوی محمد حسین صاحب کا تعارف قبل اس کے کہ میں مولوی محمد حسین صاحب کی مخالفت کی ابتدا اور انتہا کا ذکر کروں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان کے متعلق ایک تعارفی نوٹ لکھ دوں اس لئے کہ عصر حاضرہ میں بہت ہی کم لوگ ہیں جو اُن کے متعلق کچھ جانتے ہوں۔مولوی صاحب بٹالہ ضلع گورداسپور کے ایک ہندو خاندان پوری سے تعلق رکھتے تھے ان کے اجداد میں ایک شخص نے اسلام قبول کر لیا تھا اور اس طرح پر وہ نو مسلم تھے مولوی صاحب کے والد ماجد شیخ رحیم بخش صاحب کو حضرت کے خاندان سے تعلقات نیاز مندی حاصل تھے اور وہ اس خاندان کی عملی فیاضیوں سے استفادہ بھی کرتے تھے۔ان کے جاگیر کے مقدمات میں بطور مختار بھی کام کر لیا کرتے تھے۔اور حضرت مسیح موعود عليه الصلوة والسلام سے بھی اخلاص و عقیدت رکھتے تھے چنانچہ بشیر اول کی پیدائش پر اُس کے عقیقہ کی تقریب پر انہوں نے خواہش کی تھی کہ اس مولود کی مو تراشی میری گود میں ہو اور حضرت نے نہایت کشادہ دلی سے اسے قبول کر لیا تھا اور بیت الفکر میں اس سنت کو پورا کیا گیا۔