حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 94 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 94

حیات احمد ۹۴ جلد سوم مگر آپ جولائی سے پہلے روانہ نہ ہو سکے اس وقت حضرت میر ناصر نواب صاحب رضی اللہ عنہ اور ہانہ ہی میں تھے اور محلہ اقبال گنج میں مقیم تھے۔آپ وہاں جا کر ان کے مکان کے متصل شہزادہ حیدر کا مکان جو بڑا مکان تھا زنانہ کے لئے لیتے اور حضرت میر صاحب کا مکان مردانہ ہو جاتا تھا۔اس عرصہ میں آپ نے حضرت منشی عبد اللہ سنوری اور حضرت حکیم الامت کو بھی اپنی علالت اور قیام لودہانہ کی اطلاع دی اور اس سفر لود بانہ کے دوران ہی میں مخالفت کی دبی ہوئی چنگاری سلگ گئی۔مخالفت کی دبی ہوئی چنگاری سلگتی رہی۔آپ کی اس علالت اور قیام لود بہانہ کے ایام میں خاکسار کو اکثر حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہونے کا موقعہ مل جاتا۔اس وقت تک اعلان مثیل مسیح نہیں ہوا تھا۔دسمبر ۱۸۹۰ء کے آخری ایام میں فتح اسلام کی تالیف اور اشاعت کا اہتمام ہوا۔اور آپ اس وقت قادیان آچکے تھے اور اوائل ۱۸۹۱ء میں اس دعوی کا چرچہ شروع ہوا۔میں تو اس وقت لاہور آ چکا تھا۔۱۸۹۱ء کے واقعات لودہانہ کے مولوی صاحبان تو پہلے سے ہی مخالف تھے اب اس دعوی کے اظہار پر مخالفت اس کیمپ میں بھی شروع ہونے لگی جو ہمیشہ مخالف الرائے مولویوں کو جواب دیتا تھا اور اس میں جناب مولوی محمدحسین بٹالوی غفر اللہ لہ پیش پیش تھے۔اور ان کا رسالہ اشاعۃ السنہ مخالفین کے دفاع کے لئے قلمی جنگ میں مصروف تھا۔اگر چہ علماء کی ایک جماعت شروع ہی سے مخالف تھی اور یہ بدقسمتی لودہانہ کے مولوی عبدالعزیز اینڈ برادرس کے حصہ میں آئی اس وقت مولوی محمد حسین بٹالوی نے ان کو اشاعۃ السنہ میں لکھا کہ لَا تَكُونُوا أَوَّلَ كَافِرِبہ اور ان کے ہر قسم کے اعتراضات وہ مذہبی تھے یا سیاسی ان کا جواب بڑی شرح وبسط سے اپنے رسالہ میں دیا اور بظاہر اُن کا منہ کچھ عرصہ کے