حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 93 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 93

حیات احمد ۹۳ جلد سوم ڈاکٹری سکھا دیں۔اس نے کہا یہ تو بہت مشکل ہے سالہا سال کی محنت اور تجربہ کے بعد میں اس قابل ہوا ہوں آپ نے فرمایا کہ اس چیر پھاڑ کے لئے تو بڑی محنت اور سالہا سال کی محنت درکار ہے مگر اللہ تعالیٰ کے کلام سے مشرف ہونے کے لئے آپ چاہتے ہیں کہ بغیر کسی محنت اور مجاہدہ کے حاصل ہو جاوے یہ تو آپ کی ڈاکٹری سے بھی زیادہ محنت طلب ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا * جو لوگ ہم میں رہ کر مجاہدہ کرتے ہیں اُن پر ہم اپنے راستوں کو کھول دیتے ہیں ( میں نے اس گفتگو کا مفہوم لکھا ہے جو مجھے سنائی گئی تھی ) غرض حضرت کو ڈا کٹر محمد حسین صاحب کی تشخیص اور تجربہ پرحسن ظن تھا اور ان کو آپ سے محبت تھی۔اس سفر لاہور کے متعلق بھی ۳ رمئی ۱۸۹۰ء کو حضرت نے چودہری صاحب کو لکھا کہ میں بمقام لاہور بغرض علاج کرانے کے لئے آیا ہوں علاج ڈاکٹری شروع ہے، لیکن ابھی پوری پوری صحت نہیں ہوئی۔انشاء اللہ کامل صحت ہو جائے گی میں دو تین روز تک واپس قادیان چلا جاؤں گا“ مکتوبات احمد جلد دوم صفحه ۵۷۶ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) یہ دوری مرض تھی اس کا سلسلہ کچھ کچھ وقفہ کے بعد جاری رہا۔قدرتی بات ہے کہ آپ کے خدام کو اپنے درجہ محبت و اخلاص کے لحاظ سے تشویش رہتی تھی اور آپ سب کو مناسب موقعہ تسلی دیتے چنانچہ حضرت چودھری صاحب کو ۲۵ / جون ۱۸۹۰ء کولکھا کہ ” میری طبیعت بباعث ایک مرض دوری کے اکثر بیمار رہتی ہے اور ضعف بہت ہو گیا ہے۔امید کہ اللہ تعالیٰ فضل کرے گا اور آپ اندیشہ مند نہ ہوں اور تو بہ واستغفار میرا میں مصروف رہیں۔زمین پر کچھ نہیں ہو سکتا جب تک آسمان پر نہ ہو۔ارادہ ہے کہ تبدیل آب و ہوا کے لئے ۳ / جولائی ۱۸۹۰ ء تک لودھیانہ میں جاؤں۔“ مکتوبات احمد جلد ۲ صفحہ ۵۷۹ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) العنكبوت : ٧٠