حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 92
حیات احمد حضرت کی علالت ۹۲ جلد سوم یہ ایک عجیب بات ہے کہ حضرت اقدس عمر بھر مختلف بیماریوں کا ہدف رہے اور یہ ضروری تھا که حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کا نزول دو زرد چادروں میں بیان فرمایا تھا اور یہ دو بیماریاں تھیں کثرت پیشاب اور دورانِ سر۔مگر جس قدر عظیم الشان تصانیف اور آیات اللہ کا ظہور ہوا وہ انہیں بیماریوں میں ہوا حضرت مخدوم الملة مولانا عبدالکریم رضی اللہ عنہ تو جب آپ پر کسی بیماری کا دورہ ہوتا تو فرمایا کرتے کوئی بڑا نشان ظاہر ہوگا۔بہر حال اپریل ۱۸۹۰ء سے آپ پر بیماری کا حملہ ہوا۔چنانچہ ۷/ اپریل ۱۸۹۰ء کو آپ نے مکرم حضرت چودھری رستم علی صاحب رضی اللہ کو لکھا۔یہ عاجز عرصہ دس روز سے سخت بیمار رہا۔بظا ہر امید زندگی منقطع تھی۔اب بھی کسی قدر بیماری باقی ہے نہایت درجہ کا ضعف ہے۔طاقت تحریر نہیں۔صرف اطلاع کے لئے لکھتا ہوں“۔سفر لاہور مکتوبات احمد جلد دوم صفحہ ۵۷۶ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) اپریل ۱۸۹۰ء کے آخر میں آپ بغرض علاج لاہور تشریف لے گئے۔ان ایام میں حضرت مرزا سلطان احمد صاحب لاہور میں نائب تحصیلدار تھے اور آپ جب لاہور تشریف لے جاتے تو عموماً انکے پاس ہی ٹھہرتے۔آپ ڈاکٹری علاج کے لئے طبی مشورہ ڈاکٹر محمد حسین صاحب سے لیتے اور وہی آپ کے معالج تھے وہ بھائی دروازہ کے اندر اس کو چہ میں جو اونچی مسجد کے پاس سے محلہ مستان کو جاتا ہے رہتے تھے میں نے ان کو دیکھا ہے۔متدین اور حضرت اقدس سے ارادت بھی رکھتے تھے کچھ طبیعت میں مزاح بھی تھا ایک مرتبہ حضرت اقدس سے کہا کہ الہام آپ کو ہوتا ہے کوئی ترکیب بھی مجھے بتا دیں کہ الہام ہونے لگے آپ نے فرمایا پہلے آپ مجھے کو