حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 91
حیات احمد ۹۱ جلد سوم میں اس جگہ یہ بھی لکھ دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ چونکہ لوگوں کو عام طور پر یقین تھا کہ آپ راستباز ہیں اور سچی شہادت کو چھپا نہیں سکتے نہ کسی ترغیب یا ترہیب سے بدل سکتے ہیں اس لئے جہاں واقعات کا کچھ بھی تعلق ہوتا وہ ایسا کرتے۔جہاں تک میری تحقیقات ہے آپ کو تین مرتبہ شہادت کے لئے طلب کیا گیا سب سے پہلے حضرت مرزا سلطان احمد صاحب نے جو مقدمہ ڈپٹی شنکر داس وغیرہ پر اس اراضی کے متعلق کیا ہوا تھا جہاں صدر انجمن کے دفاتر ہیں تو فریق مخالف نے محض قبضہ کی تنقیح کے سلسلہ میں آپ کو طلب کیا۔قبضہ انہیں کا تھا ( قانونی قبضہ یا مخالفانہ قبضہ ) زمین ان کی مملوکہ نہ تھی وہ قانون کے اس نکتہ سے فائدہ اٹھانا چاہتے تھے باو جود دشمن ہونے کے انہیں یقین تھا کہ آپ سچی شہادت دیں گے۔حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کو جب معلوم ہوا تو انہوں نے مقدمہ واپس لے لیا اور زمین فریق ثانی کو مل گئی اس پر عمارت تعمیر ہو گئی اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور آپ کے سچ کی برکت کا ظہور یوں ہوا کہ حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے عہد خلافت میں وہ مکان اور اس کے ملحقہ مکانات سلسلہ کے قبضہ میں بذریعہ خرید آگئے۔دوسرا یہ مقدمہ ہے جس کا ذکر آپ نے اپنے مکتوب میں کیا ہے۔تیسرا وہ مشہور مقدمہ ہے جو مولوی رحیم بخش صاحب پریذیڈنٹ کونسل بہاولپور نے اخبار ناظم الہند لا ہور کے خلاف ازالہ حیثیت عرفی کا کیا ہوا تھا اور ملتان میں چل رہا تھا۔اس مقدمہ میں ناظم صاحب ایڈیٹر ناظم الہند نے آپ کو اپنی صفائی کے گواہوں میں طلب کر ایا اور آپ نے اس مقدمہ میں شہادت حقہ کا اظہار کیا۔ناظم صاحب، سلسلہ کے سخت دشمن شیعہ تھے اور ناظم الہند میں شیخ نجفی کے سلسلہ میں بڑی مخالفت کی تھی مگر وہ جانتے تھے کہ آپ شہادت کے معاملہ میں دوستی دشمنی کے خیال سے بالاتر رہ کر حق بات کہیں گے۔