حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 90
حیات احمد ۹۰ جلد سوم اس کے بعد بعض احباب کی آمد اور مصروفیت کی وجہ سے توجہ نہ کر سکے انہیں ایام میں حضرت أُمُّ المُؤْمِنین اور حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی طبیعت بھی ناساز رہی۔اُن آنے والے دوستوں میں ایک قاضی غلام مرتضی صاحب بھی تھے جو قصبہ احمد پور ضلع جھنگ کے رہنے والے تھے اور ان ایام میں بعہدہ اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر مظفر گڑھ میں مامور تھے انہوں نے بیعت تو ستمبر ۱۸۸۹ء میں بذریعہ تحریر کی تھی جنوری کے غالبا دوسرے ہفتہ میں وہ دس دن کے لئے قادیان آئے۔سرکاری عہدہ داروں میں بڑے پہلے عہدہ دار یہی صاحب تھے اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر تھے غرض اس قسم کی مصروفیتوں کی وجہ سے ٹھا کر رام کے لئے آپ دعا اور توجہ کے لئے جو موقعہ نہ پاسکے اس کے حقیقی واقعات حضرت حکیم الامت کو لکھ دیئے۔حقیقت میں جیسا کہ میں نے لے آپ کے ایک مکتوب کے اقتباس میں بتایا ہے اخلاص مند ہونا لازمی تھا۔با ایں اپنے عذرات کو لکھ دیا اور یہ بھی فرمایا۔آپ کے دوست نے اگر بے صبری نہ کی جیسا کہ آج کل لوگوں کی عادت ہے تو محض اللہ ان کے لئے توجہ کروں گا مشکل یہ ہے کہ انسان دنیا میں منعم ہو کر بہت نازک مزاج ہو جاتا ہے پھر ادنی ادنیٰ انتظار میں نازک مزاجی دکھاتا ہے اور خدا تعالیٰ پر احسان رکھنے لگتا ہے اور حسن ظن سے انتظار کر نے والے نیک حالت میں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔‘ (۲۵ جنوری ۱۸۹۰ء) مکتوبات احمد جلد ۲ صفحه ۹۲ مطبوعه ۲۰۰۸ء) ایک مقدمہ میں شہادت انہیں ایام میں ایک شخص نے ایک خون کے مقدمہ میں آپ کی شہادت لکھا دی جس کے لئے آپ کو لودہا نہ جانا ضروری تھا چنا نچہ اس کے متعلق بھی آپ نے تحریر فرمایا کہ۔”شہادت کمیشن کے سامنے ادا کی جائے گی شائد دو چار دن اس میں بھی گزریں“۔