حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 89 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 89

حیات احمد ۸۹ جلد سوم ۱۸۹۰ کے کچھ اور واقعات دعویٰ مسیحیت کا اعلان ۱۸۹۰ء کے اواخر اور ۱۸۹۱ء کے اوائل میں کیا گیا درمیانی زمانہ میں آپ اپنے خدام کی تربیت بذریعہ مکتوبات کرتے رہے اور جن کو قادیان آنے یا آپ کے سفروں میں منزل مقصود پر پہنچنے کا موقع ملتا وہ صحبتِ اقدس سے فیض پاتے رہتے۔۱۸۸۹ء کے اواخر اور ۱۸۹۰ء کے آغاز میں میر عباس علی صاحب نفث الدم کے عارضہ سے بیمار تھے اور ان کو سخت تکلیف تھی حضرت کو باوجود اپنی علالت کے آپ کی صحت اور شفایابی کے لئے خاص توجہ تھی چنانچہ آپ نے حضرت حکیم الامت کو ان کے علاج کے لئے ادویات بھیجنے کی ہدایت کی اور میر صاحب کو قادیان بلا بھیجا۔مکتوب بنام حضرت حکیم الامت مورخہ یکم جنوری ۱۸۹۰ء مکتوبات احمد جلد دوم صفحه ۹۱ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) چنانچہ میر صاحب قادیان آگئے۔اور حضرت خودان کے علاج کی طرف متوجہ ہوئے اور دعاؤں کا سلسلہ تو جاری ہی تھا چنانچہ ۲۵ /جنوری ۱۸۹۰ کے مکتوب میں میر صاحب کے منتظر رہنے کا ذکر فرمایا اور ارسال ادویہ کے لئے تاکید کی۔طالب دعا مکتوبات احمد جلد ۲ صفحه ۹۲ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) انہیں ایام میں حضرت حکیم الامت کے توسط سے ایک شخص ٹھا کر رام نے درخواست دعا کی تھی حضرت نے یکم جنوری ۱۸۹۰ء کے مکتوب میں لکھا کہ۔” میری طبیعت آپ کے بعد پھر بیمار ہوگئی ابھی ریزش کا نہایت زور ہے دماغ بہت ضعیف ہو گیا ہے۔آپ کے دوست ٹھا کر رام کے لئے ایک دن بھی توجہ کرنے کا موقع مجھے نہیں ملا۔صحت کا منتظر ہوں اگر وہ اخلاص مند ہے تو اُس کے اخلاص کی برکت سے وقت صفا مل جائے گا اور صحت بھی مکتوبات احمد جلد دوم صفحه ۹۱ مطبوعہ ۲۰۰۸ء)