حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 83 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 83

حیات احمد ۸۳ جلد سوم آپ نے باوجود ان الہامات اور کشوف کے جن کا میں اوپر ذکر کر آیا ہوں کبھی یہ پسند نہ کیا کہ مسیح موعود ہونے کا دعوی کریں لیکن جب اللہ تعالیٰ نے آپ پر انکشاف فرمایا کہ آنے والا مسیح تو ہی ہے تو آپ نے اس کے اعلان میں پس و پیش نہیں کیا اور نہ اس قسم کا خوف آپ پر طاری ہوا کہ اس دعویٰ کی بنا پر مخالفت کا ایک دوسرا طوفان بے تمیزی کھڑا ہو گا۔اسی دعویٰ کا اعلان ایک اشتہار کے ذریعہ بھی کیا گیا اس اعلان کا عنوان تھا۔آنے والا مسیح آ گیا جس کی آنکھیں دیکھنے کی ہوں دیکھے اور جس کے کان سننے کے ہوں سنے۔یہ اشتہار پنجاب گزٹ سیالکوٹ اور ریاض ہند امرتسر میں بطور ضمیمہ شائع ہوا تھا۔اور اسی اشتہار میں آپ نے اپنا الہام بھی درج فرمایا تھا جس کے الفاظ جہاں تک مجھے یاد ہیں یہ تھے۔مسیح ابن مریم نبی ناصری فوت ہو چکا ہے اور وعدہ کے موافق اس کے رنگ میں رنگین ہوکر تو آیا ہے وہ اشتہار اس وقت میرے سامنے نہیں میری لائبریری میں پنجاب گزٹ سیالکوٹ کا فائل موجود تھا جس میں نہ صرف یہ اشتہار بلکہ مباحثہ لودہانہ اور دہلی کی روئداد بھی طبع ہوئی تھیں اللہ تعالیٰ اس شخص کو ہدایت دے جس کے قبضہ میں یہ مال مسروقہ ہے۔میں کوشش میں ہوں کہ وہ مل جاوے تو اسے شائع کر دوں۔مجھے یہ اشتہار اس لئے یاد ہے کہ اس اشتہار کے ساتھ میرا ذاتی تعلق ہے۔غلطی سے اس اشتہار کے متعلق واقعات مکتوبات احمد یہ جلد ششم حصہ اول کے صفحہ ۱۰۲ پر کاتب کی مہربانی اور میری غفلت سے اشتہار مباہلہ کے متعلق ہو گئے۔اس کے ذریعہ سے اس کی اصلاح بھی مقصود ہے۔میرے تعلق کی داستان یہ ہے۔*۔۔۔مکرم عرفانی صاحب نے الہام کے الفاظ اپنی یادداشت کے مطابق لکھے ہیں۔اصل الفاظ یہ ہیں مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہو چکا ہے اور اُس کے رنگ میں ہو کر وعدہ کے موافق تو آیا ہے۔“ (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۰۲۔تذکره صفحه ۱۴۸ مطبوعه ۲۰۰۴ء)