حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 70 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 70

حیات احمد جلد سوم نہ کر سکنے کی وجہ سے بہت افسوس ہوا۔اور متواتر آپ نے مختلف خطوط میں اس کے لئے اظہار افسوس فرمایا یہ امر آپ کی سیرت کے ایک نمایاں پہلو کو لئے ہوئے ہے کہ اپنے خدام کی دلداری کا کس قدر خیال تھا۔لودہانہ میں آپ کا قیام اس مرتبہ ۵/ نومبر ۱۸۸۹ء تک رہا چنانچہ آپ نے یکم نومبر ۱۸۸۹ء کے مکتوب میں چودھری صاحب کو لکھا کہ اب میں ۵/ نومبر ۱۸۸۹ء کو قادیان کی طرف تیار ہوں آئندہ جو خط آپ لکھیں قادیان کے پتہ پر لکھیں۔مگر بعض غیر متوقع اسباب کی وجہ سے آپ یہ سفر ۱۰/ نومبر ۱۸۸۹ء سے پہلے نہ کر سکے چنانچہ ۹ نومبر ۱۸۸۹ء کومکت راطلاع دی اور پھر ۱۳ نومبر کے مکتوب میں اطلاع دی کہ میں ۱۲؍ نومبر کو قادیان پہنچ گیا ہوں۔“ دسمبر ۱۸۸۹ء کے واقعات 66 على العموم دسمبر کی تعطیلات میں حضرت اقدس سے تعلقات ارادت رکہنے والے ملا زمت پیشہ لوگ قادیان آیا کرتے تھے اس سال چونکہ بیعت کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا اس لئے اور بھی توجہ لوگوں کی ہوئی۔چنانچہ بعض احباب ضلع سیالکوٹ ، کپورتھلہ وغیرہ سے آئے ہوئے تھے اور حضرت حکیم الامت تو ۱۳/۱۲ دسمبر کو ہی آگئے تھے اور قریباً آخر دسمبر تک مقیم رہے۔جیسا کہ مکتوب اسمی چود ہری رستم علی خاں صاحب مورخه ۲۹ دسمبر ۱۸۸۹ء سے ظاہر ہوتا ہے۔”آپ کی انتظار تھی۔خدا جانے کیا سبب ہوا کہ آپ تشریف نہیں لائے۔چھ سات روز سے اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب تشریف رکھتے ہیں۔شاید چھ سات روز تک اور بھی رہیں۔اگر آپ ان دنوں میں آ جائیں تو مولوی صاحب کی ملاقات بھی ہو جاوے۔(مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر سوم صفحہ ۱۰۶۔مکتوبات احمد جلد ۲ صفحه ۷۴ ۵ مطبوعہ ۲۰۰۸ء)