حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 69
حیات احمد ۶۹ جلد سوم جنازوں کوصرف میں نے اور حضرت میاں نجم الدین صاحب نے اٹھایا اور جا کر دفن کیا۔ان میں حضرت میاں کرم داد صاحب رضی اللہ عنہ کا جنازہ بھی تھا جو بڑے ہی مخلص اور عالم آدمی تھے لیکن حضرت اقدس کی خدمت پر انہیں نا تھا۔جَزَاهُ اللَّهُ اَحْسَنَ الْجَزَاء ایسے ہی اور بھی بعض احباب ہیں مگر اس کتاب کا موضوع نہیں ان مخلص احباب میں حضرات سیکھوانی برادر زرضی اللہ عنہم اور حضرت حافظ معین الدین صاحب وغیر ہم بھی ہیں۔پھر لودہانہ کا سفر پیش آ گیا اکتوبر ۱۸۸۹ء کے آخر میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا جس کی وجہ سے آپ کو لودہانہ کا سفر کرنا پڑا چنانچہ ۲۷ اکتو بر ۱۸۸۹ء کو لودہانہ سے آپ نے حضرت چود ہری رستم علی خاں صاحب کو ایک خط میں لکھا۔وو یہ خط آپ کو میں لودھیانہ سے لکھتا ہوں۔میری روانگی کے وقت آپ کا خط معه مبلغ دس روپیہ قادیان میں مجھ کو ملا تھا مگر افسوس کہ میں اس دن ایک تشویش کی حالت میں لودھیانہ کی طرف طیار تھا اس لئے آپ کی فرمائش پر عمل کرنے سے مجبور رہا۔اسی دن لو دھیانہ سے خط پہنچا تھا کہ میر ناصر نواب صاحب کے گھر کے لوگ سخت بیمار ہیں اور انہوں نے میرے گھر کے لوگوں کو بلایا تھا کہ خط دیکھتے ہی چلے آؤ وقت بہت تنگ تھا اس وجہ سے بندو بست جلد بھیجنے کا نہ کر سکا۔اور افسوس رہا اب شائد ایک ہفتہ تک لودھیا نہ میں ہوں۔“ (مکتوبات احمد جلد پنجم نمبر سوم صفحہ ۹۹۔مکتوبات احمد جلد ۲ صفحه ۵۶۶ مطبوعه ۲۰۰۸ء) (نوٹ) شاید یہ خیال بعض دلوں میں پیدا ہو کہ وہ فرمالیش جس کے لئے چودہری صاحب نے لکھا تھا کیا تھی اسی سلسلہ خط و کتابت سے معلوم ہوتا ہے کہ چود ہری صاحب نے آپ کو انڈوں یا انڈوں کے حلوے کے لئے لکھا تھا آپ کو ایک مخلص خادم کی ایک معمولی فرمائیش کے بر وقت پورا