حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 68
حیات احمد ۶۸ جلد سوم ان الفاظ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ وصیت کی طرف اشارہ کر رہے تھے:۔”خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ میں تیری جماعت کے لئے تیری ہی ذریت سے ایک شخص کو قائم کروں گا اور اس کو اپنے قرب اور وحی سے مخصوص کروں گا اور اس کے ذریعہ سے حق ترقی کرے گا اور بہت سے لوگ سچائی قبول کریں گے۔سو ان دنوں کے منتظر رہو۔اور تمہیں یاد رہے کہ ہر ایک کی شناخت اس کے وقت میں ہوتی ہے اور قبل از وقت ممکن ہے کہ وہ معمولی انسان دکھائی دے یا بعض دھوکا دینے والے خیالات کی وجہ سے قابلِ اعتراض ٹھہرے جیسا کہ قبل از وقت ایک کامل انسان بننے والا بھی پیٹ میں صرف ایک نطفہ یا علقہ ہوتا ہے۔(رساله الوصیت، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۰۶ حاشیه ) غرض انہوں نے جماعت کو اس طرح پر اپنے عقیدہ اور معرفت کا پیغام پہنچایا اور بیعت خلافت کر لی۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی بیعت بھی کی تھی۔رض حضرت میاں نجم الدین حضرت میاں نجم الدین صاحب بھیرہ ضلع شاہ پور کے رہنے والے تھے اور حضرت خلیفہ امسیح کے ساتھ تعلقات رکھتے تھے اپنی عمر کا آخری حصہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لنگر خانہ کی خدمت میں نہایت دیانت اور امانت سے گزارا۔خدمت خلق کا خاص جذ بہ ان میں تھا۔شحنہ حق کا پہلا ایڈیشن ختم ہو گیا تو دوبارہ اپنے صرفہ سے طبع کروا کر حضرت کی خدمت میں پیش کر دیا۔نہایت محنتی اور جفاکش تھے مہمانوں کو کھانا کھلا چکنے کے بعد بھی دیر تک لنگر خانہ میں رہتے کہ کوئی سائل آ جاوے یا مسافر ہو اور پھر کچھ ٹکڑے لے کر شکستہ مکانوں اور گلیوں میں جاتے تا کہ بعض کتوں وغیرہ کو بھی جو کسی وجہ سے حرکت نہ کر سکتے ہوں دیدیں۔قادیان میں جب طاعون کا اثر ہوا اور بعض اموات ہوئیں تو اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ بعض