حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 55
حیات احمد ۵۵ جلد سوم گزشتہ نبیوں میں سے کشفی طور پر مجھ کو ملے اور مجھے بطور ہمدردی اور نصیحت کے کہا کہ اس قدر دماغی محنت کیوں کرتے ہو اس سے تو تم بیمار ہو جاؤ گے۔بہر حال خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ ایک روک تھی جس کا مولوی صاحب کی خدمت میں عذر کر دیا گیا اور یہ غذ ر واقعی سچا تھا جن لوگوں نے میری اس بیماری کے سخت سخت دورے دیکھے ہیں اور کثرت گفتگو یا خوض و فکر کے بعد بہت جلد اس بیماری کا برانگیختہ ہونا بچشم خود مشاہدہ کیا ہے وہ اگر چہ باعث نا واقفیت میرے الہامات پر یقین نہ رکھتے ہوں لیکن اُن کو اس بات پر بکلی یقین ہو گا کہ مجھے فی الواقعہ یہی مرض لاحق حال ہے ڈاکٹر محمد حسین خاں صاحب کے جو لاہور کے آنریری مجسٹریٹ بھی ہیں اور اب تک میرا علاج کرتے ہیں ان کی طرف سے ہمیشہ یہی تاکید ہے کہ دماغی محنتوں سے تا قیام مرض بچنا چاہئے اور ڈاکٹر صاحب موصوف میری اس حالت کے شاہد اوّل ہیں اور میرے اکثر دوست جیسے اخویم مولوی حکیم نور دین صاحب کے طبیب ریاست جموں جو ہمیشہ میری ہمدردی میں بدل و جان و مال مشغول ہیں اور منشی عبدالحق صاحب سے اکو نٹنٹ جو خاص لاہور میں سکونت اور تعلق ملازمت رکھتے ہیں جنہوں نے میری اس بیماری کی دنوں میں خدمت کا وہ حق ادا کیا جس کا بیان میری طاقت سے باہر ہے یہ سب میرے مخلص میری اس حالت کے گواہ ہیں مگر افسوس کہ باوجود یکہ ہر ایک مومن حسن ظن کے لئے مامور ہے مولوی صاحب نے میرے اس غذر کو نیک ظنی سے دل میں جگہ نہیں دی بلکہ غایت درجہ کی بدگمانی کر کے دروغ گوئی پر حمل کیا۔چنانچہ ان کی ساری وہ تقریر جس کو ایک ڈاکٹر جمال الدین نام اُن کے دوست نے ان کی اجازت سے تحریر کر کے لوگوں میں پھیلا یا ذیل میں معہ اُس کے جواب کے لکھتا ہوں۔قولہ میں نے ان سے ( یعنی اس عاجز سے بمقام علی گڑھ ) کہا کہ کل جمعہ ہے ، نوٹ۔جن حضرات کا ذکر اے سے ہے میں ہے وہ اب فوت ہو چکے ہیں۔عرفانی الکبیر