حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 45 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 45

حیات احمد ۴۵ جلد سوم بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ جب حضرت صاحب نے پہلے دن لدھیانہ میں بیعت لی تو اس وقت آپ ایک کمرہ میں بیٹھ گئے تھے اور دروازہ پر شیخ حامد علی صاحب کو مقرر کر دیا تھا۔اور شیخ حامد علی کو کہہ دیا تھا کہ جسے میں کہتا جاؤں اسے کمرہ میں اندر بلاتے جاؤ۔چنانچہ آپ نے پہلے حضرت خلیفہ اول کو بلوایا، اُن کے بعد میر عباس علی کو پھر میاں محمد حسین مراد آبادی بقیہ حاشیہ۔اور یہ وہ جواب ہے جو نجم الدین کبرکی نے دیا ہے پھر میں نے اپنے دونوں ہاتھ بڑھا دئے۔لیکن اس وقت آپ نے اپنے ہاتھ کو ذرا پیچھے ہٹالیا اور فرمایا تمہیں وہ حدیث یاد ہے جس میں ایک صحابی نے درخواست کی تھی کہ اَسْئَلُكَ مُرَافَقَتَكَ فِي الْجَنَّةِ میں نے عرض کیا خوب یاد ہے آپ نے فرمایا اس امر کے لئے تم کو اگر اصول اسلام سیکھنے ہوں تو کم سے کم چھ مہینے میرے پاس رہنا ہوگا اور اگر فروع اسلام سیکھنے ہیں تو ایک برس رہنا ہو گا۔تب میں نے پھر اور بھی جب ہاتھ بڑھایا تو آپ نے میری بیعت لی اور فرمایا کہ کوئی مجاہدہ سوائے اس کے کہ آپ کو نہیں بتاتے کہ ہر وقت آپ آیت وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ پر توجہ رکھیں۔پھر وَاللَّهُ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ کی نسبت ایسا ہی فرمایا۔اس توجہ میں میں نے بار ہا حضرت نبی کریم کو دیکھا اور اپنی بعض غفلتوں اور سستیوں کے نتائج کا مشاہدہ کیا چھ مہینہ کے اندر اندر آپ کا وہ وعدہ میرے حق میں بہر حال پورا ہو گیا۔جَزَاهُ اللَّهُ عَنِّى أَحْسَنَ الْجَزَاء آپ بڑے محتاط تھے اور آپ کی نظر دینی علوم میں بڑی وسیع تھی۔بہت قلیل الکلام تھے۔مثنوی ، ترمذی، بخاری، رسالہ قشیریہ، یہ چار چیزیں آپ کے درس میں ہوتی تھیں۔آپ کے کھانے پینے کے عجائبات میں سے ایک یہ بات ہے کہ ہمارے یہاں قادیان میں جوا کبر خاں سنوری حضرت مسیح موعود کے مرید اور خاص خادم رہتے ہیں ان کے ایک حقیقی بھائی ولیداد خاں صاحب تھے جو مدینہ منورہ میں حضرت شاہ صاحب کی خدمت میں اسی طرح رہتے تھے۔اُن کو ایک دفعہ گیہوں خریدنے کے لئے بھیجا۔وہ نہایت عمدہ گیہوں جس میں جو کا ایک دانہ بھی نہ تھا لائے۔ولیداد خاں کو تو کچھ نہ فرمایا لیکن آئندہ بازار کا سودا ان کی معرفت منگوانا بند کر دیا۔ولی داد خان چونکہ منجملہ بڑے احباب کے تھے بہت گھبرائے آخر ایک شخص کو پھر گیہوں خریدنے کے لئے بھیجا۔اُس شخص نے وہ روپیہ جو گیہوں خریدنے کا تھا۔ولید داد کو دیا اور کہا کہ مسلم کتاب الصلاة، باب فضل السجود والحث عليه ۲ : ۱۷