حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 44 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 44

حیات احمد ۴۴ جلد سوم میں حضرت شاہ عبدالغنی صاحب سے بیع کی ہوئی تھی۔اس بیعت کے متعلق حضرت مولوی عبداللہ سنوری رضی اللہ عنہ کی روایت جو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرۃ المہدی جلد اوّل نمبر ۹۸ پر لکھی ہے۔ہے اس بیعت کا حال خود آپ کی زبان اور الفاظ میں سنو۔مدینہ طیبہ جانے میں چونکہ میں نے حضرت شاہ عبدالغنی صاحب سے ہی پہلے مشورہ لیا تھا۔اس لئے میں انہیں کی خدمت میں سب سے پہلے حاضر ہوا۔انہوں نے ایک علیحدہ حجرہ رہنے کے لئے واسطے مجھے عطا کیا۔میں وہاں صرف رہتا تھا۔سبق کسی سے نہیں پڑھا کرتا تھا نہ شاہ صاحب سے۔پھر میرے دل میں یہ بات آئی کہ میں ان کے ہاتھ پر بیعت کرلوں۔مکان پر تو میرا ایسا خیال ہوتا تھا لیکن جب ان کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا تو خیال کرتا تھا کہ کیا فائدہ ان کے پاس جا کر عجیب عجیب خیال اٹھتے تھے، کبھی یہ سوچتا تھا کہ حلال وحرام اور امر و نواہی قرآن کریم میں موجود ہی ہیں۔ان لوگوں سے کیا سیکھنا۔اگر حُسنِ اعتقاد سے نفع ہے تو مجھ کو ان سے ویسے ہی بہت عقیدت ہے پھر اپنی جگہ جا کر یہ بھی خیال کرتا تھا کہ ہزار ہا لوگ جو بیعت اختیار کرتے ہیں اگر اس میں نفع نہیں تو اس قدر مخلوق کیوں مبتلا ہے۔غرض کہ میں اسی سوچ و بچار میں بہت دنوں پڑا رہا۔فرصت کے وقت ایک کتب خانہ مسجد نبوی کے جنوب مشرق میں تھا وہاں جا کر ا کثر بیٹھتا اور کتابیں دیکھا کرتا تھا بہت دنوں کے بعد آخر میں نے پختہ ارادہ کیا کہ کم سے کم بیعت کر کے تو دیکھیں اس میں فائدہ کیا ہے؟ اگر کچھ فائدہ نہ ہوا تو پھر چھوڑنے کا اختیار ہے۔لیکن جب میں خدمت میں حاضر ہوا اور خیال آیا کہ ایک شریف آدمی ایک معاہدہ کر کے چھوڑ دے تو یہ بھی ایک حماقت ہی ہے۔پہلے ہی سے اس بات کو سوچ لینا بہتر ہے بہ نسبت اس کے کہ پھر چھوڑ دے۔آخر ایک دن میں خدمت میں حاضر ہوا۔اور عرض کیا کہ میں بیعت کرنی چاہتا ہوں آپ نے فرمایا کہ استخارہ کرو۔میں نے عرض کیا کہ میں نے تو بہت کچھ استخارہ اور فکر کیا ہے لیکن شاہ صاحب نے جونہی اپنا ہاتھ بیعت لینے کیلئے بڑھایا۔میرے دل میں بڑی مضبوطی سے یہ بات آئی کہ معاہدہ قبل از تحقیقات؟ یہ کیا بات ہے؟ اس لئے باوجود یکہ حضرت شاہ صاحب نے ہاتھ بڑھایا تھا میں نے اپنے دونوں ہاتھ کھینچ لئے مربع بیٹھ گیا اور عرض کیا بیعت سے کیا فائدہ؟ آپ نے فرمایا سمعی کشفی گردد و دید بشنید مبدل گردد