حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 43
حیات احمد ۴۳ جلد سوم حضرت مولوی عبداللہ صاحب سنوری کی روایت نمبر ۹۶ کے موافق بھی ۲۰/ رجب مطابق ۲۳ مارچ تاریخ بیعت کا آغاز ہوتا ہے اور ۲۳ / مارچ کو شنبہ کا دن تھا ۱۹ ؍ر جب صحیح تاریخ نہیں۔بہر حال سب سے پہلے بیعت کرنے والوں میں حضرت مولا نا مولوی نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ تھے جو اسی مقصد کے لئے جموں سے (جہاں وہ شاہی طبیب تھے ) تشریف لائے تھے۔حضرت مولوی نورالدین صاحب باوجود یکہ اہل حدیث تھے مگر انہوں نے اپنے سفر حجاز بقیہ حاشیہ۔جس کا میں نے بارہا ذکر کیا ہے مگر انکار نہیں کیا تھا اس لیے دوبارہ فتح اسلام پڑھ کر بیعت کی اور آپ کے لاہور آنے سے پیشتر میں انارکلی میں مباحثات کیا کرتا تھا اور حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب اس وقت مدرسہ نعمانیہ میں پڑھتے تھے اور لودہانہ کے قیام کے زمانہ کے احباب حضرت بقا پوری زندہ ہیں (اللہ ان کی عمر میں برکت دے) لودہانہ کی جماعت کے اکابر جانتے تھے جو یکے بعد دیگرے رخصت ہو گئے۔میں یہ واقعہ اس لئے نہیں لکھا کہ کوئی خاص مقصد ہے۔اسی طرح پر ترتیب کے متعلق یہ قیاس نہیں ہوسکتا کہ وہ صحیح ہے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرۃ المہدی جلد دوم میں روایت شائع کی ہے کہ انہوں نے اس وقت بیعت نہ کی تھی۔یہ صحیح نہیں خود اسی رجسٹر میں نمبر 43 پر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کا نام یوم اوّل میں درج ہے اور میاں الہ دین اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے اسماء ترتیب کے لحاظ سے نمبر 12 کے بعد آتے ہیں۔خود حضرت میر عنایت علی صاحب رضی اللہ عنہ کی بیعت نمبر 9 پر ہوئی لیکن رجسٹر میں 12 پر درج ہے میں اس غلط فہمی کو رفع کرنا چاہتا ہوں کہ میں اس دستاویز کو تاریخی اہمیت دیتا ہوں لیکن اس کی ترتیب کو اس حد تک جو خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اندراج ہے صحیح یقین کرتا ہوں باقی ترتیب اسماء قابل توجہ ہے خود حضرت منشی عبداللہ صاحب کا بیان ہے کہ میری بیعت نمبر 2 پر تھی مگر رجسٹر میں نمبر 11 پر ہے یہ سب امور میرے نظریہ کے مؤید ہیں۔میں دوسروں کا ذکر نہیں کرتا لیکن اس وقت تک میں جماعت کپورتھلہ اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب اور چوہدری رستم علی صاحب اور بعض دوسرے احباب سے بخوبی واقف ہو چکا تھا اور لودھیانہ کے احباب تو پہلے ہی سے واقف تھے خود حضرت مرزا بشیر احمد صاحب بھی ترتیب کے متعلق مطمئن نہیں جیسا کہ روایت 35 کے آخر میں انہوں نے لکھا ہے۔(عرفانی الكبير )