حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 42
حیات احمد ۴۲ جلد سوم میں رہی حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے بعض نام لکھے اور پھر اوقات مختلفہ میں بعض لوگوں نے ان پر چوں پر سے ابتدائی بیعت کنندگان کے نام درج کئے۔سب سے پہلا بیعت کرنے والا بیعت کا سلسلہ ۱۹ رجب ۱۳۰۶ھ مطابق ۲۲ / مارچ ۱۸۸۹ء کو شروع ہوا جیسا کہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب سیرت المہدی حصہ سوم کے صفحہ 9 پر اصل رجسٹر کے حوالے سے لکھتے ہیں مگر اصل رجسٹر کی جو نقل میرے پاس ہے اس میں ٢٣ / مارچ درج ہے اور بقیہ حاشیہ نے بتایا کہ تمہارا نام اس رجسٹر میں درج ہے۔میں نے اس رجسٹر کی نقل حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے ہاں سے حاصل کی اور وہ میرے پاس ہے اس رجسٹر کے متعلق میں یہ لکھنا ضروری سمجھتا ہوں کہ جیسا کہ خود حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے لکھا اور جیسا کہ خود رجسٹر سے ظاہر ہے کہ حضرت اقدس کے سوا بعض دوسرے آدمیوں کے ہاتھوں کے اندراج بھی ہیں اور یہ امر واقعہ ہے اور جو ترتیب اس رجسٹر میں موجود الوقت ہے وہ ترتیب صحیح نہیں۔بعض اولاً بیعت کرنے والوں کے نام بہت پیچھے لکھے گئے ہیں جیسا کہ حضرت منشی اروڑے خاں صاحب کی بیعت تو نمبر ۲۶ پر ہوئی اور حضرت منشی ظفر احمد صاحب اور حضرت منشی محمد خان صاحب اور حضرت منشی حبیب الرحمن صاحب رضی اللہ عنہم نمبر ۵۷ - ۵۸ - ۵۹ پر دوسرے دن چلے گئے۔حالانکہ یہ سب قافلہ وقت واحد میں موجود تھا۔جہاں تک مجھے یاد ہے سب سے اوّل جماعت کپورتھلہ میں سے حضرت منشی ظفر احمد صاحب کی بیعت ہوئی لیکن اگر حضرت منشی اروڑے خاں صاحب کی بھی ہوئی تو بھی ان لوگوں کی بیعت اسی دن ہوئی اس کی وجہ یہی ہے کہ دستخطی پر چیاں کسی ترتیب سے نہ رکھی جاتی تھیں۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ کی بیعت کے متعلق حضرت پیر سراج الحق صاحب اسی دن کی بیعت کا انکار کرتے ہیں گوان کی بیعت اسی دن کی ہے۔میرا یہ بھی خیال ہے کہ اس میں بعض نام رہ گئے ہیں اور اس کی وجہ وہی پرچیوں کے ادھر ادھر ہونے کی ہو سکتی ہے ترتیب سے رکھی نہ گئی تھیں چنانچہ میں نے انہیں ایام میں بیعت کی تھی گو پہلے دن نہیں کی تھی مگر میرا نام اس بیعت میں نہیں میری دوسری بیعت میں ہے جو میں نے لاہور میں کی تھی اس لئے کہ اس اثناء میں مسیح موعود (اس وقت مثیل مسیح) کے متعلق شرح صدر نہ ہوا تھا