حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 38
حیات احمد ۳۸ جلد سوم تو میں خود اس کے متعلق تفصیل سے لکھ سکتا تھا مگر میں نے پسند کیا کہ حضرت منشی برکت علی صاحب لائق ( جو ایک عرصہ دراز تک لودھیانہ کی جماعت کے سیکرٹری رہے ہیں ) نے دارالبیعت کی تاریخی اور جغرافیائی حیثیت پر ایک آرٹیکل ریویو میں لکھا تھا اس کا اقتباس دوں تا کہ وہ بھی شریک ثواب ہوں۔ہاں تو میں اپنے سلسلہ کلام میں دار البیعت کی جغرافیائی اور تاریخی حیثیت کے متعلق کچھ بیان کرنے والا تھا۔سو جاننا چاہئے کہ یہ جگہ لدھیانہ محلہ جدید کو چہ ڈاکٹر احمد جان (احمدی) میں واقع ہے۔اور اس کوچہ کی شمالی حد کو قائم کرتی ہے، جو اپنی موجودہ شکل میں ایک چھوٹی سی خوبصورت مسجد ایک چھوٹا سا حجرہ، دو کمروں اور ایک چھوٹے سے صحن پر مشتمل ہے۔جس میں ہینڈ پمپ غسل خانہ، جائے ضرورت وغیرہ ضروری چیزیں مہیا ہیں۔مسجد اور کمروں کے اند ربجلی کا ایک قمقمہ آویزاں ہے۔جنوبی حصہ میں کچھ زمین صاف پڑی ہے۔جو ایک فیملی کوارٹر کی تعمیری صورت میں آنے کے لئے کسی چابک دست معمار کے انتظار میں چشم براہ ہے۔کمروں کے دروازے باہر کوچہ میں بھی کھلتے ہیں ، اور دوسری طرف مسجد اور صحن مسجد میں بھی۔شرقی کمرہ میں لائبریری ہے اور اسی کمرہ کی مشرقی دیوار کے جنوبی کونے کے پہلو میں وہ مقدس جگہ ہے جہاں احمد قادیانی علیہ السلام نے بیٹھ کر پہلی بیعت لی تھی۔لدھیانہ میں منشی احمد جان مرحوم ایک صوفی منش اور صاحب حال بزرگ ہو گزرے ہیں۔یہ جگہ جو دارالبیعت کو آغوش میں لئے ہوئے ہے اور جانب جنوب اس کے ساتھ کا ملحقہ مکان دونوں صوفی صاحب مرحوم کی ملکیت میں تھے۔رہائشی مکان میں وہ خود اپنے اہل و عیال کے ساتھ اقامت پذیر تھے۔اور دار البیعت والی جگہ میں ان کا قائم کیا ہوالنگر خانہ جاری تھا جو بھو کے لوگوں کی شکم سیری کی خدمت ادا کرتا تھا۔منشی احمد جان صاحب مرحوم کے ہاں رُشد وارشاد کا سلسلہ بھی جاری تھا۔خوش اعتقاد مریدوں کا حلقہ بہت وسیع تھا جو عقیدت کے پھول چڑھاتے تھے۔خدا نے جہاں ارادتمندوں کی