حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 406 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 406

حیات احمد ۴۰۶ جلد سوم وحی میں ان کو مسلمانوں کے لیڈر کا خطاب عطا ہوا۔وہ ساری عمر جماعت کے امام الصلوۃ اور خطیہ رہے۔اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ وَ نَوْرُ مَرْقَدَہ۔میرے محسن اور محبت صمیم تھے۔(۳) حضرت حکیم الامت خلیفہ اسیح اول نے ۱۸۹۲ء میں ہجرت نہیں کی ۱۸۹۳ء تک تو مہاراجہ جموں و کشمیر کے شاہی طبیب تھے موقعہ ملنے پر قادیان آ جاتے تھے اور حضرت اقدس ان کی عیادت کے لئے ایک مرتبہ جموں بھی تشریف لے گئے تھے۔(۴) حضرت مولوی برہان الدین صاحب رضی اللہ عنہ سے مولوی محمد حسین صاحب نے فتویٰ کفر پر دستخط لئے مگر انہوں نے نہایت احتیاط اور خَشْيَةُ الله سے اپنا بیان لکھا۔جو درج ذیل ہے اور آخر وہ بیعت میں داخل ہوئے۔اشاعۃ السنہ بٹالوی صاحب کے سوال میں بحوالہ تحریرات مذکور درج ہیں اور وہ تحریرات آج تک مجھ کو باد جو دسعی و جستجو کے نہیں میسر ہوئیں تاکہ میں اُن کے مطالعہ سے حسب استعداد اپنی کے دجالیت اور کذابیت کے اسلام کے دائرہ سے خارج ہونے یا حقانیت دربانیت و صداقت و اشاعت اسلام مرزا کی ایسی یقینی اور قطعی سند حاصل کرتا اور پھر استفتا پرلکھتا کہ اس کو عَالِمُ الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَتِ کی حضور میں پیش کرتا اور فرمانِ این دستجان کا بھی بے تحقیق لکھنے اور کہنے اور کرنے سے شدت سے منع کرتا ہے کہ وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ - إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَيْكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا - اور ايضًا الْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلَى۔۔۔۔الخ اور نبی الرحمت نے فرمایا ہے کہ اَلشَّاهِدُ يَرَى مَالَا يَرَاهُ الْغَائِبُ اور غائب پر حکم لگانے سے روکا ہے اور سوال میں بھی بحوالہ تحریرات میرزائی مسطور ہے کہ وہ ایسی باتوں کا معتقد و مدعی ہے لہذا نہ مطلقاً بلکہ مقیداً لکھا جاتا ہے کہ اگر مرزا ایسے اعتقادات کا معتقد و مدعی ہے جو علماءِ رَبَّانِيِّين نے اُس کے حق میں لگائے ہیں۔اور عیاذ باللہ کہ کسی کے حق میں تَقْلِيْدًا اور سَمْعًا کوئی فتویٰ دوں اور لکھوں اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُوْرِ نَفْسِى وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِي اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِيْ تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا فَإِنّكَ خَيْرُ مَنْ زَكَّهَا مَنْ زَكَّهَا امِيْنِ يَا أَرْحَمُ الرَّاحِمِيْنِ العبد برهان الدین جہلمی بنی اسرائیل : ۳۷ یس : ۶۶