حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 405 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 405

حیات احمد ۴۰۵ جلد سوم ان کے ملازمت سے علیحدہ ہو جانے پر اُن کی اعانت کے لئے احباب کو توجہ دلائی اور خصوصاً نواب محمد علی خان صاحب ان کی فراخ دلی سے اعانت فرماتے تھے۔حضرت اقدس کو ان کے متعلق یہ الہام ضرور ہوا از پئے آں محمد احسن رہے تارک روزگار می بینم " (۲) حضرت مولانا عبد الکریم صاحب کی ہجرت کا واقعہ صحیح ہے۔حضرت مرحوم یوں تو وقتاً فوقتاً حضرت اقدس ہی کے حضور آتے رہتے اور مہینوں قیام فرماتے اور آپ کے تحریری کام میں ہاتھ بٹاتے ، کاپیاں پروف پڑھتے ، خطوط کے جواب دیتے لیکن والدین کی خدمت اور کشش سیالکوٹ بھی لے جاتی مگر وہاں خاموش نہ رہتے با قاعدہ درس دیتے۔تقریریں کرتے۔چنانچہ خلافتِ شیخین اور حضرت اقدس کے تجدیدی کارناموں پر لیکچر دیئے جو بعد میں طبع ہوئے مگر ۱۸۹۲ء کے اواخر میں مستقل طور پر قادیان آگئے اور آئینہ کمالات اسلام کے عربی حصہ کے ترجمہ فارسی کی سعادت کا شرف اُن کو ہی حاصل ہوا۔اور آئینہ کمالات اسلام کے قصائد نونیہ اور لامیہ بھی ان کی تحریک کا نتیجہ ہے ان ایام میں اپنی حالت کا ذکر فرماتے ہیں۔۱۸۹۲ء کے آخر میں آئینہ کمالات اسلام زیر تصنیف تھی اور میں حضرت صاحب کے مکان کے نیچے گول کمرہ میں رہتا تھا اور آئینہ کمالات کے عربی حصہ کا فارسی میں ترجمہ کرتا تھا۔“ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کو حضرت اقدس سے عشق تھا اور حضرت اقدس کو بھی آپ کے ساتھ لہی محبت تھی اور تمام جماعت ان سے ایک والہانہ محبت رکھتی تھی اللہ تعالیٰ کی لے یہ شعر دو طرح جماعتی لٹریچر میں ملتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جس طرح تحریر فرمایا ہے وہ ہم نے لیا ہے۔دوسری تحریر پر چہ القادیان یکم ستمبر سن 19ء میں پہلے مصرعہ کے اختلاف سے درج ہے وہاں ”از برائش محمد احسن را‘ مندرج ہے۔ملاحظہ ہو تذکره صفحه ۱۴۰ مطبوعه ۲۰۰۴ء (ناشر) کے ترجمہ۔میں دیکھتا ہوں کہ مولوی سید محمد احسن امروہوی اسی غرض کے لئے اپنی نوکری سے جو ریاست بھوپال میں تھی علیحد ہو گئے تا خدا کے مسیح کے پاس حاضر ہوں۔