حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 401 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 401

حیات احمد ۴۰۱ جلد سوم فدائی تھے۔مولوی عبداللہ غزنوی سے بھی انہوں نے بیعت کی ہوئی تھی۔اور مولوی محمد حسین صاحب سے بھی تعلقات رکھتے تھے اس لئے کہ خود مولوی محمد حسین صاحب بھی غزنوی صاحب کے خاص معتقدین میں سے تھے۔اس جلسہ کے برکات جیسا کہ پہلے میں نے بیان کیا ہے کہ باوجود علماء کی مخالفت کے اور عین جلسہ کے قریب جلسہ میں شمولیت کو روکنے کے لئے ایک فتویٰ شائع کیا گیا مگر تائید ربانی نے اپنا کرشمہ دکھایا۔کہ اس جلسہ میں ایسے لوگ شریک ہوئے جو اپنے علم وفضل اور دنیوی وجاہت وعزت کے عملی رنگ کے مخلص مسلمان تھے اور ایک کثیر جماعت سلسلہ میں داخل ہوئی اور اشاعت اسلام کے لئے ایک مستقل نظام کی بنیاد رکھی گئی اور حضرت اقدس نے باوجود مختلف قسم کی مصروفیتوں اور سفروں کے آسمانی فیصلہ اور نشان آسمانی دو رسالے شائع کئے۔اور ایک ضخیم کتاب حقیقت اسلام کے اظہار کے لئے لکھنی شروع کی جس کا نام آئینہ کمالات اسلام رکھا اور یہ کتاب فروری ۱۸۹۳ء میں شائع ہوئی جس کا کسی قدر تفصیلی ذکر ۱۸۹۳ء کے واقعات میں انشاء اللہ العزیز ہوگا۔بعض ضروری تصریحات اور متروکہ واقعات گالیاں دینے والا کون تھا (1) قیام لاہور کے ایام میں محبوب رایوں کے مکان میں ایک ایسے شخص کا واقعہ بیان کیا گیا ہے جس نے ایک بھری مجلس میں حضرت اقدس کو گالیاں دیں اور آپ کامل صبر اور ضبط نفس کی وجہ سے خاموش رہے۔اس گندہ دہن کے متعلق حضرت میاں معراج الدین صاحب عمر رضی اللہ عنہ کی ایک شائع شدہ روایت مل گئی ہے جس میں اس شخص کا نام دیا گیا ہے وہ حسب ذیل ہے۔