حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 400
حیات احمد ۴۰۰ جلد سوم فہرست تو لکھ کر چھپوا دیں کہ جو اُن سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسا کہ مرزا صاحب کے مرید مرزا صاحب سے محبت رکھتے ہیں۔مجھے قیافہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ وقت عنقریب ہے کہ مرزا صاحب کی خاک پا کو اہل بصیرت آنکھوں میں جگہ دیں اور اکسیر سے بہتر سمجھیں۔اور تبرک خیال کریں۔مرزا صاحب کے سینکڑوں ایسے صادق دوست ہیں جو مرزا صاحب پر دل و جان سے قربان ہیں۔اختلاف کا تو کیا ذکر ہے رو برو اُف تک نہیں کرتے سے سر تسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے مولوی محمد حسین صاحب زیادہ نہیں چار پانچ آدمی تو ایسے اپنے شاگر دیا دوست بتا دیں جو پوری پوری ( خدا کے واسطے ) مولوی صاحب سے محبت رکھتے ہوں اور دل و جان سے فدا ہوں۔اور اپنے مال کو مولوی صاحب پر قربان کر دیں۔اور اپنی عزت کو مولوی صاحب کی عزت پر شمار کرنے کے لئے مستعد ہوں۔“ ( آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۶۳۷ تا ۶۴۰ ) توضیحی نوٹ حضرت میر ناصر نواب صاحب نے ایک وکیل صاحب کا ذکر کیا ہے کہ وہ گویا اسلام سے برگشتہ ہو چکے تھے اور حضرت اقدس کے نفوس قدسیہ نے اُن کو ایک مخلص مسلمان بنا دیا۔یہ وکیل صاحب حضرت بابو محکم الدین صاحب امرتسر میں پریکٹس کرتے تھے اور پٹی ضلع لاہور کے باشندے تھے خاکسار عرفانی کے مخلص دوستوں میں سے تھے۔دوسرے ایک بزرگ کا ذکر کیا ہے جنہوں نے اس جلسہ پر حضرت مولوی سید عبداللہ صاحب غزنوی کا ایک رؤیا مولوی محمد حسین صاحب کے متعلق بیان کیا تھا یہ بزرگ حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب قاضی کوٹ ضلع گوجرانوالہ کے ایک نہایت ہی مخلص اور حضرت اقدس کے